اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3046
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
حضور نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے نیچے ہوں گی۔ (جو شخص ان کے حقوق ادا
کرے گا اس کے حق میں ان کی شفاعت اللہ کے پاس مقبول ہوگی۔ اور جو ان کے حقوق ضائع
کرے گا تو ان کی گرفت سے بچ نہ سکے گا ان میں سے (1) ایک تو قرآن ہے کہ بندوں کے لئے
جھگڑے گا (اگر انہوں نے اس کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور اس کے احکام پر عمل کیا ہے تو ان کے
فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کے لئے اڑ جائے گا۔ اور اگر انہوں نے قرآن کا حق ضائع
کیا ہے اور اس کے احکام پر عمل نہیں کیا ہے تو ان کے خلاف حجت کرے گا) اور قرآن کا ایک ظاہر
ہے اور ایک باطن ہے (ظاہر سے مراد تلاوت ہے جس میں سارے مسلمان شریک ہیں) اور باطن
اس کے معانی میں تدبر ہے جو علمائے امت کا حصہ ہے۔ اور (2) دوسری وہ چیز جو عرش کے نیچے ہوگی
وہ) امانت ہے (کہ اس سے مراد لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے اموال کی نگہداشت ہے
(3) تیسری وہ چیز جو عرش کے نیچے ہوگی) وہ صلہ رحمی ہے (یعنی قرابت داروں کے حقوق کی حفاظت
ہے) اور ان تینوں میں سے ہر ایک قیامت کے روز آواز دے گا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ جو مجھ سے ملا
(یعنی میرے حقوق کی حفاظت کی) اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی رحمت سے ملیں گے اور (سرفراز کریں
گے) اور جو مجھ سے ٹوٹا (یعنی میرے حقوق کو ضائع کیا) اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنی رحمت سے دور کریں
گے۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔