اردو
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا ہے جس نے تین روز سے کم میں قرآن کا دور ختم کیا اس نے قرآن کو نہیں سمجھا یعنی قرآن
میں جو تدبر کا حق ہے اس کو ادا نہ کیا اگرچہ تلاوت قرآن کا ثواب مل جائے گا۔
اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
اور ابوداؤد، ترمذی و نسائی کی ایک روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے
مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قرآن (کا دور) کتنے دنوں
میں ختم کرنا چاہئے تو حضور نے ارشاد فرمایا: چالیس روز میں پھر حضور نے فرمایا: اگر اس سے کم میں ختم
کرنا چاہو تو پھر ایک مہینہ میں۔ پھر فرمایا: اگر اس سے بھی کم میں ختم کرنا چاہو تو بیس دن میں۔ اور اگر
اس سے بھی کم میں ختم کرنا چاہو تو فرمایا: پندرہ روز میں۔ اگر اس سے بھی کم مدت میں ختم کرنا چاہو تو
سات دن میں پھر حضور نے اپنے ارشاد میں سات روز سے کم کا تذکرہ نہیں فرمایا۔
اور بخاری کی ایک روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ قرآن کا دور ایک ماہ میں کر لیا کرو۔ حضرت عبداللہ
بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی قوت رکھتا ہوں۔ تو حضور نے فرمایا: سات
دن میں پڑھ لیا کرو اور (قرآن) اس سے زائد پڑھ کر جلد ختم نہ کرو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2949 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5054 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1394 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "And do not exceed that." It was said in Umdat al-Qari: The prohibition against exceeding is not for forbiddance, just as the command in all of this is not for obligation. Its verification is at the beginning of this chapter. It was said in Al-Alamgiriyyah: The best recitation is to reflect on its meaning, to the point that it was said: It is disliked to complete the Qur'an in a single day, and it should not be completed in less than three days, out of reverence for it.
Note 1
(۱) قوله: ولا تزد على ذلك: قال في عمدة القاري»: إن النهي عن الزيادة ليس للتحريم، كما أن الأمر في جميع ذلك ليس للوجوب انتهى. وتحقيقه في أول هذا الباب، وقال في العالمكيرية: أفضل القراءة أن يتدبّر في معناه حتى قيل: يكره أن يختم القرآن في يوم واحد، ولا يختم في أقل من ثلاثة أيام تعظيما له.
Note 1
ف: عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں سات دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کی جو ممانعت وارد ہے وہ حرمت کے لئے نہیں ہے کہ سات دن سے کم میں قرآن ختم کیا جائے تو وہ حرام ہے۔ چنانچہ اس کی وضاحت عالمگیری میں اس طرح مذکور ہے کہ قرآن کی افضل تلاوت یہ ہے کہ اس کے معنی اور مطالب میں غور کرتے ہوئے قرآن پڑھا جائے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک دن میں قرآن ختم کرنا مکروہ ہے اور تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا آداب تلاوت اور قرآن کی تعظیم کے منافی ہے۔12