اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3157
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ آپ نے سورۂ انفال کو جس کا
شمار مثانی (یعنی وہ سورتیں جن کی آیتیں سو سے کم ہیں۔ اور ان میں قصے مکرر بیان کئے گئے ہیں اس
لئے ان کو مثانی کہا جاتا ہے۔ اور یہ سورۂ شعراء سے لے کر سورۂ فتح تک کی سورتیں ہیں) میں ہونا
چاہئے اس کو سورۂ براءت سے ملا دیا جس کو آیتوں کی تعداد کے اعتبار سے) مئین ہونا چاہئے (جن
میں سو یا سو سے زیادہ آیتیں ہیں اور یہ سورۂ یونس سے سورۂ فرقان تک کی سورتیں ہیں) اور آپ نے
ان دونوں سورتوں یعنی سورۂ انفال اور سورۂ براءت کے درمیان میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
“ نہیں لکھی اس طرح آپ نے ان کو سبع طوال یعنی سات بڑی سورتوں میں شریک کر دیا۔ اس کی کیا
وجہ ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جیسے
جیسے زمانہ گزرتا جاتا مختلف آیتوں والی سورتیں نازل ہوتی رہتیں تو آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ
جیسے کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ کاتبین وحی کو طلب فرماتے اور حکم دیتے کہ ان آیتوں کو ان
سورتوں میں جن میں فلاں فلاں مضامین کا ذکر ہے لکھ دو پھر جب کبھی کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ
فرماتے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں جن میں ان مضامین کا ذکر ہے لکھ دو اور سورۂ انفال ان سورتوں
میں سے ہے جو مدینہ منورہ میں ابتداءً نازل ہوئیں اور سورۂ براءت نزول کے اعتبار سے قرآن کی
آخری وحی میں سے ہے لیکن ان دونوں سورتوں کے مضامین ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرمائے اور ہم پر یہ واضح نہیں فرمایا کہ سورۂ براءت سورۂ انفال ہی کا حصہ
ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے میں نے ان دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا ہے۔ اور اسی وجہ ان دونوں کے
درمیان ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ نہیں لکھی اور ترتیب میں ان کو میں نے سبع طوال میں
شامل کر دیا ہے۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 786 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3086 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2222 (unverified) 87% confidence
Mishkat (candidate) 2222
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ قرآن مجید کی سورتوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ سورہ بقرہ سے سورہ توبہ تک سبع طوال سات بڑی سورتیں کہا جاتا ہے۔ اور سورہ یونس سے سورہ فرقان تک کی سورتوں کو مئین (سو یا سو(100) سے زیادہ آیتوں والی سورتیں) اور سورہ شعراء سے سورہ فتح تک کو مثانی سو آیتوں سے کم والی سورتیں جن میں قصے مکرر ہیں۔ اور سورہ حجرات سے آخر قرآن تک کی سورتوں کو مفصل کہتے ہیں کہ ان سورتوں کے درمیان بسم اللہ کا فاصلہ قریب قریب ہے۔ پھر مفصل کی تین قسمیں ہیں ایک طوال دوسری اوسط تیسری قصار: سورہ حجرات سے سورہ انشقاق تک کو طوال مفصل یعنی لمبی اور فاصلہ والی سورتیں اور والسماء ذات البروج سے سورہ لَمْ يَكُنْ تک کو اوساط مفصل یعنی درمیانی فاصلہ والی سورتیں اور یہاں سے آخر قرآن تک کو قصار مفصل یعنی چھوٹے فاصلہ والی سورتیں کہا جاتا ہے۔12