English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated in a lengthy hadith: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Allah the Exalted said: 'I have divided the prayer between Myself and My servant into two halves...'" [until the end of Surah Al-Fatihah]
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 395a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
(3) The statement: "The servant says: Alhamdulillahi Rabbil-‘alamin"—Ibn ‘Abd al-Barr said: This hadith resolves the confusion about the omission of the Basmalah from Al-Fatihah. It is an explicit text that cannot be interpreted otherwise. The evidence is that Allah began the division with Alhamdulillah... without the Basmalah. Had it been part of the surah, He would have started with it. Moreover, making Iyyaka na‘budu the midpoint results in three verses for Allah’s praise, three for the servant, and one between them. Including the Basmalah would invalidate this division. Also, the Prophet (ﷺ) said the servant recites Ihdina as-sirat al-mustaqim to the end, then said: "These are for My servant"—narrated by Abu Dawud and An-Nasa’i with sound chains. This implies three verses, whereas according to Ash-Shafi‘i’s view (counting the Basmalah), it would be two, making four and a half for Allah—contradicting the hadith’s explicit "half." Here, "prayer" means recitation (Al-Binayah)
Note 3
(۳) قوله: قال العبد: الحمد لله رب العالمين إلخ: قال ابن عبد البر : هذا حديث قد رفع الإشكال في سقوط بسم الله الرحمن الرحيم من الفاتحة، وهو نص لا يحتمل التأويل، ولا أعلم حديثا في سقوط البسملة أبين منه. قلت: وجه التمسك به أنه ابتدأ القسمة بـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ دون البسملة، فلو كانت منها لابْتَدَأَ بها، وأيضًا فقد جعل النصف إِيَّاكَ نَعْبُدُ فيكون ثلاث آيات الله تعالى في الثناء عليه، وثلاث آيات للعبد، وآية بينهما، وفي جعل التسمية منها إبطال هذه القسمة فيكون باطلا. وأيضًا أنه قال: يقول العبد: ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ إلى آخرها، ثم قال : هؤلاء لعبدي، هكذا ذكره أبو داود والنسائي بإسنادين صحيحين، وهو جمع، فيقتضي ثلاث آيات، وعلى قول الشافعي يكون اثنين، وللبارئ أربع ونصف، إذا لم يعدوا أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ آية، وإن عدوها آية تصير ثمان آيات، وهذا كله خلاف تصريح الحديث بالنصف، والمراد بالصلاة القراءة. قاله في «البناية».
Note 1
ف: واضح ہو کہ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ صدر کی یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور اس بارے میں اس سے زیادہ واضح کوئی حدیث مجھے نہیں ملی جو نص صریح کا حکم رکھتی ہو اور جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ اس حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے دو برابر حصوں میں سورہ فاتحہ کی تقسیم فرمائی ہے اور سورہ فاتحہ کی ابتداء ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ سے کی ہے اور اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو ہوتا تو سورہ فاتحہ کی ابتداء ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سے کی جاتی۔ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہ ہونے پر دوسری دلیل میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ“ کی آیت کو درمیانی قرار دی ہے اور ابتدائی تین آیتیں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں ہیں۔ اور آخری تین آیتیں ”اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ“ سے آخر تک بندے کی استدعا میں ہیں۔ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو سورہ فاتحہ کا جزو نہ قرار دیا جائے ورنہ حدیث قدسی کی مذکورہ تقسیم باطل ہوجائے گی، کیونکہ اس صورت میں سورہ فاتحہ کی آیتیں آٹھ ہوجائیں گی۔ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے تیسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ ابوداؤد اور نسائی نے بھی دو صحیح سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث روایت کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”هٰؤُلَاءِ لعبدی“ یعنی یہ آخری تین آیتیں ”اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ“ سے اخیر تک بندے کی استدعا میں ہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ جو تین سے کم کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی تقسیم حدیث قدسی کے لحاظ سے سات آیتوں پر اس طرح ہوگی کہ ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ“ سے ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ تک تین آیتیں ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ“ درمیانی آیت اور ”اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ“ سے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ تک آخری تین آیتیں۔ اس طرح جملہ سات آیتیں پوری ہیں، جن میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کی آیت شامل نہیں ہے اور اگر اس کے سوا کوئی اور طرح کی تقسیم کی جائے تو حدیث قدسی کے صریحاً خلاف ہوگی۔