English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Call upon Allah with certainty of response, and know that Allah does not respond to a supplication from a heedless heart"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٦٨٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُؤْقِنُوْنَ بِالْإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ لَا يَسْتَجِيْبُ دُعَاءً مِنْ2 قَلْبٍ غَافِلٍ لَا هِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3170
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اپنی دعا کی مقبولیت کا یقین رکھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو (اللہ تعالیٰ
تمہاری دعا ضرور قبول فرمائیں گے) اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ ایسی دعا کو قبول نہیں فرماتے ہیں جو
(بغیر اخلاص) کے غفلت والے دل اور بے پرواہی کے ساتھ کی جائے (کہ جس میں دلجمعی نہ
ہو)۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3479 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2241 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 2241
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: "From a heedless heart"—If one supplicates absentmindedly, it is still better than not supplicating—especially if done with tenderness or if unable to focus. As in Fatawa Qadi Khan (Al-‘Alamgiriyyah)
Note 2
(۲) قوله: من قلب غافل إلخ رجل دعا بدعاء وقلبه ساه، فإن كان دعاؤه على الرقة فهو أفضل، وكذا لو كان لا يمكنه أن يدعو إلا وهو ساه، فالدعاء أفضل من ترك الدعاء. كذا في فتاواى قاضي خان. قاله في العالمگيرية».
Note 1
ف: فتاویٰ عالمگیریہ میں فتاویٰ قاضی خاں کے حوالہ سے لکھا ہے: افضل یہ ہے کہ دعا کو رقت اور دلجمعی کے ساتھ کرے اگر دل جمعی نہ بھی ہو تو بھی افضل یہ ہے کہ دعا کرنے کو ترک نہ کرے بلکہ دعا کرتا رہے۔ اہ۔ مرقات میں لکھا ہے کہ دعا کے لئے ان اوقات اور ان مقامات کو تلاش کرنا چاہئے جن میں مقبولیت دعا کے مواقع مہیا رہتے ہیں۔12