English
Narrated by Mu'adh (may Allah be pleased with him): He said, "I asked, 'O Messenger of Allah, inform me of an action that will admit me into Paradise and distance me from the Fire.' He replied, 'You have asked about a great matter, but it is easy for whom Allah makes it easy: You worship Allah and do not associate anything with Him, establish the prayer, give the zakat, fast the month of Ramadan, and perform Hajj to the House (the Ka'bah).'
Then he said, 'Shall I not guide you to the gates of goodness? Fasting is a shield, charity extinguishes sin just as water extinguishes fire, and the prayer of a person in the depths of the night.' Then he recited: "Their sides forsake their beds" (Surah As-Sajda, 32:16) until he reached: "They do (good deeds)."
Then he said, 'Shall I not inform you of the head of the matter, its pillar, and the peak of its summit?' I replied, 'Yes, O Messenger of Allah.' He said, 'The head of the matter is Islam, its pillar is the prayer, and its peak is jihad.' Then he said, 'Shall I not tell you the key to all of that?' I replied, 'Yes, O Prophet of Allah.' He took his tongue and said, 'Guard this.' I said, 'O Messenger of Allah, will we be accountable for what we speak?' He replied, 'May your mother mourn you, O Mu'adh! Is there anything that throws people into the Fire on their faces or on their noses except the harvest of their tongues?'
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٧ - وَعَنْ مُعَادٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ أَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ : تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصَوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ».
ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُل فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ تَلَا : {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} حَتَّى بَلَغَ: {يَعْمَلُوْنَ}(السجدة : ١٦) ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُوْدِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟ قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُوْلَ اللهِ. قَالَ: «رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُوْدُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ قُلْتُ: بَلَى، يَا نَبِيَّ اللهِ. فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ، فَقَالَ: «كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا». فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ. قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 30
معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!
آپ مجھے ایسا عمل بتلائے جو مجھ کو جنت میں داخل کرے اور دوزخ سے مجھ کو دور کرے۔ ارشاد ہوا کہ
تم نے ایک امر عظیم (بڑی بات) کا سوال کیا ہے، اور یقیناً وہ آسان ہے اس شخص کے لئے جس پر اللہ
تعالیٰ آسان کر دے۔ (1) اللہ کی عبادت کرے اور (2) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور (3)
نماز کو پابندی کے ساتھ ادا کرے۔ (4) زکات دے، اور (5) رمضان کے روزے رکھے، اور
(6) بیت اللہ کا حج کرے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازوں
کا پتہ نہ دوں؟
روزہ ڈھال ہے اور خیرات گناہوں کو بجھا دیتی ہے (یعنی مٹا دیتی ہے) جس طرح پانی آگ کو
بجھا دیتا ہے، اور وسط شب میں آدمی کا نماز پڑھنا، پھر آپ نے آیت قرآنیہ ۞ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ
2، آیت نمبر:16/17) تلاوت فرمائی۔
ترجمہ: یہ ہے (ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں، ڈر
سے اور امید سے، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، یہ آنکھوں کی ٹھنڈک
ہے جو اُن کے لئے چھپا رکھی گئی ہے، اسے کوئی نفس نہیں جانتا، یہ بدلہ ہوگا اس عمل کا جو وہ کیا کرتے
تھے)۔
فرمایا: کیا میں تم کو اصل دین، اور دین کا ستون، اور دین کا اعلیٰ مقام نہ بتلا دوں؟ میں نے عرض
کیا: ہاں بتلائیے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ارشاد ہوا: اصل دین اسلام (فرماں برداری) ہے، اور اس
کا ستون نماز ہے، اور اس کا اعلیٰ مقام جہاد ہے (یعنی ہر وہ کوشش جس سے اعلائے کلمۃ اللہ ہو۔)
پھر ارشاد ہوا کہ کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتلا دوں جس پر ان تمام امور دین کا دارومدار ہے؟ میں
نے عرض کیا: ہاں بتلائیے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تو آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑلی اور
فرمایا اس کو قابو میں رکھو، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تو کیا ہم لوگ جو کچھ بولتے
ہیں اس پر بھی مواخذہ ہوگا؟ فرمایا: کس قدر غافل ہو اے معاذ! لوگوں کو دوزخ میں منہ کے بل یا ناک
کے بل، یا زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی (یعنی کلمات کفر، تہمت، غیبت وغیرہ) کے سوا اور بھی کوئی چیز گرائے گی؟
(امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2616 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3973 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 29 (unverified) 97% confidence
Mishkat (candidate) 29
Confidence and text similarity are not editorial verification.