Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Supplications

Hadith 2706

Opening narrations

In this book

Current reading

Supplications

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2706Volume 2

English

Al-Sa'ib ibn Yazid reported from his father (may Allah be pleased with him) that the Prophet (ﷺ), when he supplicated, would raise his hands and wipe his face with them.

[Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2245 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 2245

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

Wipe his face with them,

(3) The statement: "Wipe his face with them," etc. It is mentioned in al-'Alamgiriyyah: "Wiping the face with the hands after completing the supplication—some scholars consider it insignificant, but many of our teachers have practiced it. This is the correct view, as supported by narrations." This is quoted from al-Ghasiyah.

Note 3

قوله

(۳) قوله : ومسح وجهه إلخ وقال في العالمكيرية»: ومسح الوجه باليدين إذا فرغ من الدعاء، قيل: ليس بشيء وكثير من مشايخنا الله اعتبروا ذلك، وهو الصحيح، وبه ورد الخبر. كذا في «الغاشية».

Note 1

ف: صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعاء سے فارغ ہونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو چہرے پر اس لئے پھیرتے تھے کہ دعاء کرتے وقت ہتھیلیاں آسمان کی طرف رہتی ہیں اور آسمان دعاؤں کا قبلہ ہے اور دعاء مانگتے وقت برکات سماویہ اور انوار الٰہیہ ہاتھوں پر نازل ہوتے ہیں اور دعاء سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنے سے اس کی برکت حاصل ہوجاتی ہے۔ علامہ جزری رحمۃ اللہ نے ”حصن حصین“ میں آداب دعا میں یہ بھی لکھا ہے کہ دعاء کرتے وقت آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے اور یہ کہ دعاء سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرہ پر پھیر لینا چاہئے۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ دعاء سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنے میں حکمت یہ ہے کہ دعاء کی قبولیت پر یقین کرتے ہوئے بطور نیک فالی اللہ تعالیٰ کے انعام و عطیہ کو قبول کرنے کا اظہار ہے۔ اور امام جزری نے اس حدیث کی سند ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بیان کی ہے۔ اور حاکم نے بھی مستدرک میں بیان کی ہے۔ یہ پورا مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12