Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Supplications

Hadith 2733

Chapter: The Remembrance of Allah (Exalted and Glorified is He) and Drawing Close to Him

In this book

Current reading

Supplications

Chapter: The Remembrance of Allah (Exalted and Glorified is He) and Drawing Close to Him

Zujajat al-Masabih 2733Volume 2

English

Hanzalah ibn Ar-Rabi' al-Usaydi reported: Abu Bakr (may Allah be pleased with him) met me and asked, "How are you, Hanzalah?" I said, "Hanzalah has become a hypocrite." He exclaimed, "SubhanAllah! What are you saying?" I replied, "When we are with the Messenger of Allah (ﷺ) reminding us of Hell and Paradise, it is as if we see them with our eyes. But when we leave the Messenger of Allah (ﷺ) and attend to our wives, children, and livelihoods, we forget much." Abu Bakr said, "By Allah, we experience the same!" So I went with Abu Bakr until we entered upon the Messenger of Allah (ﷺ). I said, "Hanzalah has become a hypocrite, O Messenger of Allah!" The Messenger of Allah (ﷺ) asked, "How so?" I said, "O Messenger of Allah, when we are with you reminding us of Hell and Paradise, it is as if we see them. But when we leave you and attend to our families and work, we forget much." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand is my soul, if you remained in the state you are in with me and in constant remembrance, the angels would shake hands with you in your beds and on your paths. But, O Hanzalah, there is a time for this and a time for that (he repeated this three times)."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٧٣٣ - وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيعِ الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ (رضي الله عنه) فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ. قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ، فَنَسِينَا كَثِيرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللهِ! إِنَّا لَتَلْقَى مِثْلَ هَذَا. فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِﷺ، قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : «وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكَّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ تَدُومُوْنَ عَلَى مَا تَكُونُوْنَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3224
حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ تو آپ نے دریافت فرمایا: اے حنظلہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو میں نے کہا: کیا عرض کروں) حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے۔ تو یہ سن کر حضرت صدیق نے تعجب سے فرمایا: حنظلہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو (تم جیسے مومن کامل کے لئے یہ کیسے ممکن ہے) اس پر میں نے عرض کیا کہ: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر رہتے ہیں اور حضور ہم کو نصیحت فرماتے ہیں اور دوزخ و جنت کا تذکرہ فرماتے ہیں تو اس وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ دونوں ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر بیوی، بچوں اور باغوں (وغیرہ کام کاج) میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں (اور وہ استحضار اور دلجمعی باقی نہیں رہتی۔ یہ سن کر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ہمارا بھی یہی حال ہے۔ پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (عرض حال کے لئے) پہنچے اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: کیوں کیا بات ہے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب ہم آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ ہم کو نصیحت فرماتے ہیں کہ اور آپ دوزخ و جنت کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے ہیں - تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں (اور وہ استحضار باقی نہیں رہتا ہے یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم میرے پاس سے دور رہنے کی حالت میں بھی (اگر صفائی قلب، خوف الٰہی، واستغراق اور دلجمعی کے ساتھ) ذکر الٰہی پر مداومت کرتے رہو تو فرشتے تم سے تمہارے گھروں میں اور راستوں میں (یعنی تمہاری فرصت اور کاروبار کی جگہ تمہاری اس حالت کی عظمت میں تم سے ملاقات اور کاروبار کی جگہ، مصافحہ کیا کرتے ، اے حنظلہ (حضوری کے بعد غفلت کی حالت کو نفاق مت سمجھو یہ نفاق نہیں ہے) تمہارے لئے ایک وقت (حقوق اللہ کی ادائیگی کا ہے اور ایک وقت (اپنے ضروریات اور حقوق العباد اور اہل وعیال کی خدمت کا) ہے اور اس جملہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید کے لئے تین بار فرمایا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2750a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.