اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3272
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں دن میں ستر (70) مرتبہ سے زائد اللہ تعالیٰ
سے استغفار کرتا ہوں۔ اور اس کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اس حدیث کی روایت بخاری نے کی
ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
Allah the Almighty says:
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6307 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2323 (unverified) 96% confidence
Mishkat (candidate) 2323
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں استغفار اور توبہ کی ترغیب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہونے کے باوجود دن میں ستر (70) بار سے زائد استغفار فرمائیں تو ہم گنہ گاروں کو بطریق اولیٰ استغفار اور توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن دو چیزوں کی وجہ سے تھا ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا ہے تم کو چاہیے کہ دوسرے کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں۔ ایک امن جو اٹھا لیا گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اور جو امن باقی ہے وہ استغفار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۂ انفال، آیت نمبر:33، میں) ”وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ، وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ“ (اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ (اے نبی!) آپ کے ان میں ہوتے ہوئے ان کو عذاب میں مبتلا کریں اور ایسا بھی نہ کریں گے کہ ان کو عذاب دیں اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار فرمانے کا جو ذکر ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: حضور کا یہ استغفار امت کی طرف سے ہوا کرتا تھا جو امت کے حق میں آپ کی جانب سے بطور سے شفاعت کے تھا۔12