Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى

Hadith 2780

بَابُ الِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى

بَابُ الِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ

Zujajat al-Masabih 2780Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۷۸۰ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ مِائَةَ مَرَّةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1516 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3434 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3814 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کرنے کا جو ذکر ہے وہ امت کی تعلیم کے لئے تھا۔ ورنہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ سب معاف کردئے گئے تھے اس لئے کہ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کو تعلیم دینا مقصود تھا کہ آدمی اپنے مالک کے سامنے تضرع اور عاجزی زیادہ سے زیادہ کرے اس لئے کہ جو جتنا زیادہ مقرب ہوگا اس کو اتنا ہی زیادہ اپنے مالک سے خوف رہے گا۔ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا جلال اور استغناء بھی ظاہر کرنا منظور تھا کہ بندہ کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے مالک کے آگے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتا رہے۔12