Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Names of Allah the Exalted

Hadith 2829

Chapter: The Mercy of Allah

In this book

Current reading

the Names of Allah the Exalted

Chapter: The Mercy of Allah

Zujajat al-Masabih 2829Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you will be saved by his deeds alone." They asked, "Not even you, O Messenger of Allah?" He replied, "Not even me, unless Allah covers me with His mercy. Strive for righteousness, be moderate, worship in the early and late hours, and take some rest at night. Steadfastness, steadfastness! You will attain your goal."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٨٢٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ». قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ بِرَحْمَةٍ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاغْدُوا وَرُوحُوا ، وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3329
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی کو اس کا محض نیک عمل نجات دلانے کے لئے ہرگز کافی نہیں ہوگا (جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو اس لئے کہ حقیقت میں نجات کا سبب خدا کا فضل ہے اور نیک عمل توفیق الٰہی سے ہوتا ہے) صحابہ رضی اللہ عنہم نے (یہ سن کر حیرت سے) دریافت کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا یہ (بات) آپ کے لئے بھی ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت مجھے ڈھانک لے۔ پس تم لوگوں کو چاہئے کہ (اللہ کے فضل پر بھروسہ کر کے اپنے اعمال کو) درست کرتے رہیں اور (افراط و تفریط سے بچ کر اعمال میں) میانہ روی اختیار کریں اور صبح و شام اور کچھ رات اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور یاد) میں رہا کریں اور دین اور دنیا کے کاموں میں) میانہ روی اختیار کریں (اور اگر اپنے اعمال اور اخلاق کو درست کرتے رہیں گے) تو اپنے مقصد کو حاصل کر لیں گے۔” اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6463 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2816a (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمت خداوندی اور فضل الٰہی جب بندہ کو شامل حال ہوتی ہے تو بندہ کو نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور بندہ نیک عمل کرتا ہے اور نجات حاصل کرتا ہے ورنہ محض نیک عمل بطور موجب باعث نجات نہیں، اگر فضل الٰہی شامل حال نہ ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر کسی بندہ کا کچھ زور نہیں ہے، اور نہ اس کے حکم کے سامنے کسی کو چون و چرا کی مجال ہے اور اس کی قدرت بے حد و بے حساب ہے۔ کسی کی کیا طاقت کہ خود کو جنت کا مستحق خیال کرے اور بندہ کے عمل کا یہ حال ہے کہ خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ ہو نقص اور کوتاہی سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی اپنے نیک عمل پر نہ اترائے اور نہ بھروسہ کرے۔ اب رہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے آپ کو اس میں شامل فرمانا ایک عمومی خطاب کے طور پر ہے جس میں جواب دینے والا اپنے آپ کو شامل کر کے جواب دیتا ہے تا کہ مسئلہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ یہ بات بھی خوب واضح رہے کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عمل کو ترک کر دیا جائے اور اس سے پہلو تہی کی جائے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عمل اس وقت کامل اور مقبول ہو گا جب کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس میں شامل ہو۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اعتدال اور میانہ روی سے نیک عمل کرتے جاؤ تا کہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکو۔ (ماخوذ از: مرقات اور اشعۃ اللمعات۔)12