English
Narrated by Mundhir Abu Ya'la al-Qauri from Muhammad ibn al-Hanafiyyah: I heard him narrate from his father that he said, "I used to experience wet dreams, so I instructed Al-Miqdad to ask the Prophet (ﷺ) about it, and I was too shy to ask him myself because his daughter was present with me. So Al-Miqdad asked him, and the Prophet (ﷺ) said, 'Whenever semen is discharged, a ghusl (ritual bath) is obligatory, and when pre-ejaculate (madhiy) is discharged, wudu (ablution) is required.'" 1
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٨٦ - وَعَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى القَوْرِيَّ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: كُنْتُ أَجِدُ مَنِيًّا فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، وَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، لأَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنَّ كُلَّ فَحْلٍ يُمْنِي، فَإِذَا كَانَ الْمَنِيُّ فَفِيْهِ الْغُسْلُ، وَإِذَا كَانَ الْمَذْيُ فَفِيْهِ الْوُضُوْءُ 1 . رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمُ نَحْوَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 315
منذر ابو یعلیٰ ثوری رحمہ اللہ محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، منذر
کہتے ہیں: میں محمد بن الحنفیہ کو ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ ان
کے والد یعنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا: مجھے مذی کثرت سے آیا کرتی تھی تو میں نے مقداد رضی
اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں اور مجھے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے میں شرم محسوس ہوتی تھی کیوں کہ آپ کی صاحبزادی میرے
نکاح میں تھیں۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The saying: "And if it is pre-ejaculate, then wudu is required." Al-Tahawi said: Some scholars are of the view that it is obligatory for a man to wash his private parts (the penis) when he experiences pre-ejaculate (madhiy) or after urination. However, others disagreed with them, stating that the Prophet (ﷺ) did not mandate washing the private parts in such cases, but rather to prevent the pre-ejaculate from flowing. Do you not see that when Ali (may Allah be pleased with him) narrated what the Prophet (ﷺ) prescribed for him in such situations, he mentioned performing wudu for prayer? Therefore, it is established that anything other than the wudu for prayer prescribed by the Prophet (ﷺ) was for a different reason and not for the same cause that requires wudu for prayer. This is the view of Abu Hanifa, Abu Yusuf, and Muhammad ibn al-Hasan (may Allah have mercy on them).
Note 1
(۱) قوله : وإذا كان المذي ففيه الوضوء: قال الطحاوي: ذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أَمْذَى وإذا بال. وخالفهم في ذلك آخرون، فقالوا: لم يكن ذلك من رسول الله ﷺ على إيجاب غسل المذاكير، ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج. أفلا ترى أن عَليًّا لما ذكر عن النبي ﷺ ما أوجبه عليه في ذلك ذكر وضوء الصلاة، فثبت بذلك أن ما كان سوى وضوء الصلاة مما أمر به فإنما كان ذلك لغير المعنى الذي وجب له وضوء الصلاة. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن (رحمهم الله).
Note 1
مذی اس رقیق پانی کو کہتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مذاق کرنے یا ان کو شہوت کے ساتھ دیکھنے سے نکلتا ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ ہر جوان مرد کو مذی آتی ہے، اگر منی خارج ہو تو غسل واجب ہے اور اگر مذی نکلے تو اس پر صرف وضوء واجب ہے، غسل واجب نہیں ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور بخاری اور مسلم سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) ف: مرد سے جب مذی نکلے تو اس پر وضوء ضروری ہے، اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ نے اولاً ایک جماعت کے مسلک کو نقل کیا ہے جو حنفیوں کے خلاف ہے جن کا قول یہ ہے کہ مرد کو جب مذی نکلے تو اس پر شرمگاہ کا دھونا واجب ہے، جس طرح پیشاب کرنے کے بعد شرمگاہ کا دھونا ضروری ہے لیکن احناف نے ان کی مخالفت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ بعض حدیثوں سے مذی نکلنے پر شرمگاہ کا جو دھونا معلوم ہوتا ہے اس سے شرمگاہ کے دھونے کا واجب کرنا مقصود نہیں بلکہ اس کی غرض مذی کی آمد کا بند کرنا ہے، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف وضوء کرنے کا ذکر ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں، امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف اور محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا یہی ارشاد ہے۔