اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3377
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بی بی فاطمہ رضی اللہ
عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی مشقت کی شکایت کرنے کے لئے آئیں جو چکی
(پیسنے کی وجہ) ان کے ہاتھوں کو پہنچتی تھی۔ (اس لئے کہ) آپ کو یہ اطلاع ملی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے پاس غلام آئے ہوئے ہیں (چونکہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہ تھے
اس لئے) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آپ سے ملاقات نہ ہوئی تو آپ نے ام المومنین حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ سارا قصہ بیان کر دیا (کہ ان کو خادم کی ضرورت ہے)۔ جب حضور تشریف
لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قصہ کی خبر دی، حضرت علی رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور (اس وقت) ہم اپنے
بچھونوں پر لیٹے ہوئے تھے ہم نے اٹھنے کا ارادہ کیا آپ نے فرمایا: تم اسی حالت پر رہو آپ میرے
اور بی بی فاطمہؓ کے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں اپنے پیٹ پر آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک
محسوس کی آپ نے فرمایا: کیا میں تم کو اس چیز سے بہتر بات نہ بتلاؤں جو تم نے مانگی ہے وہ یہ ہے کہ
جب تم بستر پر (سونے کے لئے) جاؤ تو تینتیس (33) بار سُبْحَانَ اللّٰهِ تینتیس (33) بار
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ چونتیس (34) بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھا کرو یہ (وظیفہ) تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5361 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2727a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement "he sat between us" indicates that Fatimah and Ali were under one blanket. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: فقعد بيني وبينها إلخ يدل على أن فاطمة وعليا كانا تحت لحاف واحد. قاله في «المرقاة».