English
Ali (may Allah be pleased with him) reported that when he was given a mount to ride, he would say "Bismillah" when placing his foot in the stirrup, "Alhamdulillah" when seated, then recite "Glory to Him Who has subjected this to us..." (Qur'an 43:13-14). Then he would say "Alhamdulillah" three times, "Allahu Akbar" three times, and "Subhanaka, I have wronged myself, so forgive me, for none forgives sins but You." Then he laughed. When asked why, he said, "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do the same and laugh. When I asked why, he said, 'Your Lord is amazed at His servant when he says, "Forgive my sins," knowing that none forgives sins but Me.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٨٨٤ - وَعَنْ عَلِيٍّ(رضي الله عنه)أَنَّهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِاسْمِ اللهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلهِ، ثُمَّ قَالَ: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾(الزخرف: ١٣-١٤) ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا إِلَّا أَنْتَ. ثُمَّ ضَحِكَ، فَقِيلَ: مِنْ أَيَّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيَّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، يَقُوْلُ: يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3397
امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کی سواری کے
لئے ایک جانور لایا گیا جب آپ نے اپنے پیر کو رکاب میں رکھا تو بِسْمِ اللّٰه کہا اور جب آپ اس
کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا الْحَمْدُلِلّٰه پھر (یہ آیت پڑھی)۔ ”سُبْحٰنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا
پھر تین 3 مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللّٰهُ اَكْبَرُ فرما کر (یہ دعاء) پڑھی۔ سُبْحَانَكَ
میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے آپ مجھے بخش دیجئے اس لئے
کہ گناہوں کو آپ ہی بخشتے ہیں۔
اس دعاء کو پڑھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنس پڑے تو آپ سے دریافت کیا گیا
:امیرالمؤمنین آپ کیوں ہنسے؟ تو آپ نے فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں ایسے ہی
کرتے دیکھا جیسا کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے! تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کیوں
ہنسی آئی۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب کہ وہ یہ کہیں
”اے میرے رب! میرے گناہوں کو بخش دے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (بندہ) جانتا ہے کہ
میرے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں۔
”اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2602 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3446 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.