اردو
امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب سے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے
روایت ہے ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو
شخص کسی کو (دینی، دنیوی یا جسمانی) بلاء میں گرفتار دیکھ کر یہ دعاء پڑھے تو وہ بلاء اور مصیبت اس کو نہ
پہونچے گی خواہ وہ کوئی بلاء ہو (دعاء یہ ہے):
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھ کو اس بلاء سے محفوظ رکھا ہے جس میں تو
گرفتار ہے اور مجھے بہت ساری مخلوقات پر بڑی فضیلت دی ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور ابن ماجہ نے اس کی روایت حضرت ابن عمر سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3892 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3431 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3432 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ بلاء عام ہے خواہ بدنی ہو جیسے برص، جذام اور اندھا پن وغیرہ خواہ بلائے دنیاوی ہو جیسے مال اور جاہ کا حصول وغیرہ اور خواہ بلائے دینی ہو جیسے فسق، ظلم، بدعت اور کفر وغیرہ مختصر یہ کہ ہر قسم کے مبتلائے بلاء کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھنا چاہئے البتہ علماء نے کہا ہے کہ جو کوئی بیمار کو دیکھے تو آہستہ سے یہ دعاء پڑھے تاکہ وہ آزردہ نہ ہو اور اگر گناہ گار کو دیکھے تو پکار کر پڑھے تاکہ اس کو عبرت ہو اگر پکار کر پڑھنے میں فساد کا اندیشہ ہو تو ایسے موقع پر بھی آہستہ سے دعاء پڑھے۔ (حاشیہ مشکاۃ12)