اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے روحاء میں (جو مدینہ منورہ سے چالیس میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے) ایک قافلہ
ملا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ
ہم مسلمان ہیں۔ ان لوگوں نے بھی دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا (میں) اللہ کا رسول ہوں! پھر قافلہ کی ایک عورت نے اپنے کم سن بچے کو دکھا کر پوچھا (یا رسول
اللہ اگرچہ کہ اس بچے پر حج فرض نہیں، اگر اس کو حج کرایا جائے تو) کیا اس کا حج ادا ہو جائے گا؟
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں! (اس کا یہ حج نفل ہوگا اور اس کو نفل حج کا ثواب ملے
گا۔ البتہ حج کرانے کا) تم کو بھی ثواب ملے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور حاکم کی ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے اس طرح مروی
ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو
کوئی نابالغ بچہ حج کرے اور (حج کرنے کے بعد) بالغ ہو تو اس پر (استطاعت کی صورت میں)
فرض ہے کہ پھر دوسری بار حج ادا کرے اور جو کوئی غلام حج کرے اور (حج کرنے کے بعد) اس کو
آزادی ملے تو اس پر بھی (بشرط استطاعت) فرض ہے کہ وہ پھر دوسرا حج ادا کرے۔ حاکم نے اس کی
روایت کر کے فرمایا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ان دونوں حضرات
نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 4
(4) The statement: "A woman lifted a child to him..." The ruling is that if a child or slave performs Hajj, it is valid as a voluntary act but does not fulfill their obligatory Hajj. Though they are not legally obligated (due to lacking eligibility for obligation), they are eligible for performance. Thus, upon reaching puberty or gaining freedom, if they have the means, Hajj becomes obligatory. As stated in ‘Umdat ar-Ri’ayah: This is the position in Al-‘Alamgiriyyah and Ad-Durr al-Mukhtar. Al-‘Urf ash-Shadhi adds: The Hajj of a child or slave is unquestionably valid in our school. However, it does not suffice for Hajjat al-Islam (the obligatory Hajj) once the duty applies. Imam Nawawi erred in attributing the invalidity of their Hajj to Abu Hanifah, who actually held that it does not substitute for Hajjat al-Islam, as others also affirmed. Jurists state: The guardian must instruct the child to remove stitched clothing, enter Ihram, and make Talbiyah on their behalf while preventing violations. ‘Umdat al-Qari cites At-Tahawi: The Hadith only confirms that the child’s Hajj is valid, not that it fulfills the obligation. If asked for proof, we cite the Hadith: "The pen is lifted from three: a child until puberty." If the child is not accountable, Hajj is not obligatory for them.
Note 4
(٤) قوله : فرفعت إليه امرأة صبيا إلخ : حاصله : أنه إذا أحرم الصبي أو العبد بالحج وأدياه، يتأدى منهما تطوعا، ولا يجزئهما عن الفرض؛ فإنهما وإن لم تكن فيهما أهليه الوجوب ففيهما أهلية الأداء، فبعد البلوغ والعتق إن قدرا على الزاد وغيره وجب عليهما الحج. قال في عمدة الرعاية»: كذا في العالمكيرية» و«الدر المختار». قال في «العرف الشذي»: حج الصبي والرقيق صحيح عندنا بلا ريب، إلا أنه لا يكفي عن حجة الإسلام إذا وجب عليهما الحج، وسها النووي حين نسب عدم صحة حجهما إلى أبي حنيفة، والحال أنه يقول: إنه لا ينوب عن حجة الإسلام، كما قال غيره أيضًا. قال الفقهاء: إن الولي يأمر الصبي أن ينحسر عن ثيابه المخيطة ويحرم ويلبي عنه الولي ويكفه من الجنايات انتهى. وقال في عمدة القاري»: قال الطحاوي: وكان من الحجة على هؤلاء أنه ليس في الحديث إلا أن رسول الله أخبر أن للصبي حجا، وليس فيه ما يدلُّ على أنه إذا حج يجزئ من حجة الإسلام. فإن قلت: ما الدليل على ذلك. قلت: قوله : رفع القلم عن ثلاثة عن الصغير حتى يكبر، فإذا ثبت أن القلم مرفوع عنه ثبت أن الحج ليس بمكتوب عليه.
Note 1
ف: واضح ہو کہ درمختار، عالمگیری اور عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے کہ بچہ یا غلام حج کا احرام باندھ لیں اور حج ادا کر لیں تو ان کا یہ حج نفل ہوگا فرض حج نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ بچہ اور غلام پر حج فرض نہیں ہے۔ پھر جب بچہ بالغ ہو جائے، یا غلام آزاد ہو جائے اور ان میں حج کی استطاعت ہو تو ان کو حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگا، اور عرف شذی میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔ اور فقہاء کرام نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ بچہ جب حج کر رہا ہو تو ولی کو چاہئے کہ بچہ کو بھی بڑوں کی طرح میقات سے احرام بندھوائے اور بچے کی طرف سے ولی لبیک کہے اور بچہ کو ممنوعات احرام سے بچاتا رہے۔ اہ، اور اگر نابالغ بچہ وقوف عرفات سے پہلے بالغ ہو جائے اور پھر میقات پر پہنچ کر فرض حج کی نیت سے جدید احرام باندھ لے اور مناسک حج کی تکمیل کر لے تو فرض حج اس کے ذمہ سے ادا ہو جائے گا۔ اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اشعۃ اللمعات میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی نادار اور مفلس شخص کسی طرح حج کے دنوں میں کعبۃ اللہ پہنچ جائے اور حج کے مناسک ادا کر لے تو اس کا فرض حج ادا ہو جائے گا اور بعد ازاں وہ غنی ہو جائے تو اس کو پھر سے حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر غلام نے اپنے مالک کے ساتھ نفل حج کی نیت سے احرام باندھا تھا اور وقوف عرفات سے پہلے آزاد ہو گیا تو اس کو چاہئے کہ سابقہ نفل حج کی نیت ہی سے مناسک حج کی تکمیل کر لے اور اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ نفل احرام کو توڑ کر میقات سے فرض حج کی نیت سے احرام باندھ لے، البتہ بشرط استطاعت اس کو آئندہ فرض حج کی تکمیل کرنا ضروری ہوگا۔ درمختار۔12