Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 2996

Opening narrations

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2996Volume 2

English

Sa’id ibn Jubayr said: I asked Ibn Abbas (may Allah be pleased with them), "Why do the Companions differ about when the Prophet (ﷺ) began Talbiyah?" He replied: "I know this best. He performed only one Hajj, hence the confusion. After praying two Rak’ahs at Dhul-Hulayfah, he declared Hajj. Some heard him there, others when his camel stood, and others at Al-Bayda’. By Allah, he declared it at all three moments."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٩٩٦ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ الله فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللهِﷺ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ1 النَّاسِ بِذَلِكَ، [إِنَّهَا] إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللهِﷺ حَجَّةً وَاحِدَةً، فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوْا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ حَاجًا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ، فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُوْنَ أَرْسَالًا، فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللهِ ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، وَايْمُ اللهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ، وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ. فَمَنْ أَخَذَ2 بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْحَاكِمُ. قَالَ الْحَاكِمُ : صَحِيحُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3543
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب (حج کا) احرام باندھا اور آپ نے تلبیہ پڑھا تو آپ کے تلبیہ پڑھنے کے موقع پر (کہ آپ نے کب تلبیہ پڑھا) اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو اختلاف کیا ہے اس پر مجھے تعجب ہے تو حضرت ابن عباس نے فرمایا (تم تعجب کیوں کرتے ہو) میں اس بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں (اس لئے کہ اس وقت میں سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب تھا اس وجہ سے حقیقت حال سے میں تم کو آگاہ کر دیتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی حج ادا فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف کی وجہ بھی یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ منورہ سے) حج کے لئے نکلے اور (مقام ذوالحلیفہ میں احرام باندھنے کے لئے ٹھہر گئے) جب آپ مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعت تحیۃ الاحرام ادا فرمائے تو اسی مجلس میں حج کی نیت کی اور تحیۃ الاحرام کی دو رکعتوں کے سلام پھیرنے کے بعد تلبیہ پڑھا تو جو لوگ وہاں موجود تھے انہوں نے اس کو سنا اور خود میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (آپ کے تلبیہ پڑھنے کو سن کر) یاد رکھ لیا پھر جب (روانگی کے لئے) ناقہ مبارک پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) تلبیہ پڑھا اور جو لوگ اس وقت وہاں موجود تھے انہوں نے اس کو یاد رکھ لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ جوق در جوق چلے آ رہے تھے تو ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تلبیہ پڑھتے سنا جب کہ آپ ناقہ مبارک پر سوار تھے تو انہوں نے یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناقہ مبارک پر سوار ہونے کے بعد تلبیہ پڑھا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے روانہ ہوئے اور میدان کو پار کر کے ٹیلہ پر پہنچے تو پھر (یہاں بھی) آپ نے تلبیہ پڑھا اور اس وقت جو لوگ یہاں موجود تھے (آپ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھ کر) کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدان پار کرنے کے بعد ٹیلہ پر ہی تلبیہ پڑھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا کی قسم جب آپ ﷺ نے (مسجد ذوالحلیفہ میں احرام باندھنے کے بعد) اپنے مصلّے پر حج کی نیت باندھی تو اسی وقت سے تلبیہ پڑھنا شروع فرما دیا اور پھر جب ناقہ مبارک پر سوار ہوئے تو اس وقت بھی تلبیہ پڑھا اور جب میدان پار کے ٹیلہ پر پہنچے تو وہاں بھی تلبیہ پڑھا تو جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرتے ہیں تو وہ تحیۃ الاحرام کے بعد اپنے مصلّی پر ہی لبیک پکارتے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور حاکم نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے، اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1770 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

(1) Statement on Ibn Abbas’ Explanation: At-Tahawi concluded that the Prophet (ﷺ) initiated Ihram after the two Rak’ahs, which is the Hanafi position. Al-Mirqat adds that Talbiyah is repeated at significant moments.

Note 2

(2) Statement on Following Ibn Abbas: Hanafis adopt this view. Mirqat al-Mafatih affirms.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فقال : إني لأعلم الناس إلخ: وقال الطحاوي فبين عبد الله بن عباس الوجه الذي منه جاء اختلافهم، وإن إهلال النبي الذي ابتدأ الحج ودخل به فيه كان في مصلاه، فبهذا نأخذ، ينبغي للرجل إذا أراد الإحرام أن يصلي ركعتين، ثم يحرم في دبرهما، كما فعل رسول الله ، وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد ، انتهى. وقال في «المرقاة»: وقد جمع ابن القيم في زاد المعاد بقوله : أهل في مصلاه، ثم ركب ناقته فأهل أيضًا، ثم أهل لما استقبلت به البيداء، ولذا قالوا: يستحب تكرار التلبية عند تغير الأحوال والأزمنة والأمكنة.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فمن أخذ إلخ : وقال في مرقاة الصعود وأصحابنا الحنفية أخذوا به.

Note 1

ف: واضح ہو کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلبیہ پڑھنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو اختلاف فرمایا ہے اس کی وجہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صدر کی اس حدیث میں بیان فرمائی ہے اور درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ پڑھنے کی ابتداء دوگانۂ احرام کے سلام کے ساتھ ہی فرمائی ہے، اس وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص احرام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ دوگانۂ احرام ادا کرنے کے بعد ہی لبیک پکارنا شروع کردے اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ اہ اور مرقات میں ابن القیم کی ”زاد المعاد“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوگانۂ احرام کے بعد ہی اپنے مصلی پر لبیک کہنا شروع کیا اور پھر ناقۂ مبارک پر سوار ہونے کے بعد بھی لبیک فرمایا، اور جب آپ میدانِ بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تھے اس وقت بھی آپ نے لبیک پڑھی، اس وجہ سے علماء نے فرمایا ہے محرم کے لئے مستحب ہے کہ وہ حالات زمانہ اور جگہ کی تبدیلی کے موقعوں پر لبیک کی تکرار کرتا رہے۔ اور مرقات میں یہ بھی لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ جب کبھی لبیک کہیں تو تین بار لبیک کہیں اور درمیان میں بات نہ کریں۔ اور یہی مذہب حنفی ہے۔ 12