Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3003a

Chapter: Sales

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Sales

Zujajat al-Masabih 3003aVolume 2

English

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: I was traveling with the Messenger of Allah (ﷺ) on a camel when he asked, "Why are you at the back?" I replied, "My camel is exhausted." He tugged its tail and urged it forward, saying, "Now I am at the front, and its pace concerns me." When we neared Medina, he asked, "How is the camel? Sell it to me." I said, "No, it is yours, O Messenger of Allah." He insisted, "No, sell it to me." After repeating this, he said, "I have taken it for an uqiyyah. Ride it, and when we reach Medina, bring it to me." Upon arrival, I brought the camel, and he told Bilal, "Weigh an uqiyyah for him and add a qirat." I said, "This extra is from the Messenger of Allah (ﷺ)," so I kept it in a pouch until the people of Syria seized it during the Battle of Al-Harrah. [Narrated by Al-Nasa’i] In another version: "I have taken it for such-and-such and lent you its back until Medina."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٠٣ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي آخِرِ النَّاسِ ؟ قُلْتُ: أَعْيَنَا بَعِيْرِي، فَأَخَذَ بَذَنبِهِ فَزَجَرَهُ، إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يُهِمُّنِي رَأْسُهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ: «مَا فَعَلَ الْجَمَلُ؟ بِعْنِيْهِ قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: «لَا بَلْ بِعْنِيْهِ قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ. قَالَ: «لَا بَلْ بِعْنِيْهِ قَدْ أَخَذْتُهُ1 بِوُقِيَّةٍ، ارْكَبْهُ، فَإِذَا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأْتِنَا بِهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُهُ بِهِ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: يَا بِلَالُ: زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً وَزِدْهُ قِيرَاطًا قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَلَمْ يُفَارِقُنِي فَجَعَلْتُهُ فِي كِيْسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَيْ حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ فَأَخَذُوْا مِنَّا مَا أَخَذُوا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا، وَقَدْ أَعَرْتُكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3949Noor 3950
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اونٹ پر سفر کر رہا تھا حضور ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا بات ہے کہ اور لوگوں میں تم سب سے پیچھے پیچھے چل رہے ہو میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھک گیا ہے (جس کی وجہ سے میں پیچھے ہو گیا ہوں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ (اونٹ کے قریب تشریف لائے) اس کی دم پکڑا اور اس کو جھٹکایا (پھر تو یہ اونٹ ایسا تیز چلنے لگا کہ) میں لوگوں میں سب سے آگے ہو گیا (اور اونٹ کی تیزی کا یہ حال تھا کہ) اس کا سر (اور اونٹوں سے آگے جا رہا تھا) جس سے مجھے حیرت ہو رہی تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ قریب ہوئے تو حضور ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا جابر تمہارا اونٹ اب کیسا ہے؟ وہ مجھے بیچ دو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ تو آپ ہی کا ہے! آپ نے فرمایا (ٹھیک ہے) ایسا نہ کرو بلکہ اس کو مجھے (قیمتاً) بیچ دو، میں نے (دوبارہ) عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو آپ ہی کا مال ہے۔ حضور ﷺ نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا نہیں! اس کو مجھے (قیمتاً) بیچ دو! میں اس کو ایک اوقیہ چاندی کے معاوضہ میں خرید لیا اور تم مدینہ پہنچنے تک اس پر سواری کر سکتے ہو اور جب مدینہ منورہ پہنچ جاؤ تو اس اونٹ کو لے کر ہمارے پاس آ جاؤ چنانچہ جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو اس اونٹ کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! انتم (جابر کو اونٹ کی قیمت میں) ایک اوقیہ چاندی تول کر دے دو اور ایک قیراط مزید چاندی دیدو میں نے (دل میں) کہا یہ ایک قیراط چاندی ایسی نعمت ہے جو قیمت کے علاوہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھے زائد عطا فرمائی ہے لہذا (میں نے عہد کر لیا کہ یہ زائد چاندی عمر بھر میرے پاس ہی تبرکاً رہے گی اور) جدا نہ ہوگی۔ چنانچہ وہ میرے پاس ہی رہی یہاں تک کہ یوم حرہ میں جب کہ شامی فوجیں آئیں تو لوٹ مار میں (اور چیزوں کے ساتھ) یہ ⟦?⟧ بھی ہم سے چھین لی گئی۔ (جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا)۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔ اور نسائی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا) میں نے تمہارے اونٹ کو اتنی چاندی کے معاوضہ میں لے لیا اور (چونکہ تمہارے پاس اور کوئی سواری نہیں ہے اس لئے) عاریتاً تم کو اجازت دیتا ہوں کہ مدینہ منورہ تک تم اس پر سوار ہو کر پہنچو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 4637 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2872 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2872

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I have taken it for an uqiyyah

(1) "I have taken it for an uqiyyah"—Ahmad used this to validate selling an animal while retaining its use for transport, provided the distance is short. Malik permitted this for short journeys, as in Jabir’s case. Abu Hanifah, Al-Shafi’i, and others prohibited it, citing the hadith against conditional sales (bay‘ wa shart). They reconciled this by arguing that Jabir’s case was exceptional, or that the condition was added post-sale, not embedded in the contract. Alternatively, it was not a true sale but a means for the Prophet (ﷺ) to benefit Jabir, as evidenced by his later refusal to take the camel without compensation.

Note 1

قوله

(۱)قوله : أخذته بوقية أركبه وفي رواية لهما، قال: فبعته فاستثنيت حملانه إلى أهلي، أي شرطت أن أحمله رحلي ومتاعي إلى أهلي، فرضي بهذا الشرط، احتج أحمد بهذا على جواز بيع دابة واستثنائه ظهرها لنفسه مدة مع لزوم الشروط، وقال مالك: يجوز ذلك إذا كانت المسافة قريبة، وكذلك كان في قصة جابر ، وقال أبو حنيفة والشافعي حمد و آخرون: لا يجوز ذلك، سواء بعدت المسافة أو قربت واحتجوا بالحديث السابق في النهي عن بيع الثنيا، وبالحديث في النهي عن بيع وشرط، وأجابوا عن حديث مسلم والبخاري أنه خاص بجابر له ولا يجوز لغيره، أو أنه كان الاستثناء بعد وجود البيع ولم يكن الشرط في صلب العقد، فوعده . ويؤيده ما وقع في حديث النسائي: أخذته بوقية أركبه، وفي رواية أخرى له قد أخذته بكذا وكذا، وقد أعرتك ظهره إلى المدينة، أو أنه لم يجر بينهما حقيقة بيع؛ إذ لا قبض، ولا تسليم، وإنما أراد أن ينفعه بشيء، فاتخذ بيعه الجمل ذريعة إلى ذلك بدليل قوله ﷺ عند إعطاء الوقية: ما كنت لأخذ جملك فخذ جملك «المرقاة» و«اللمعات» ملتقط منهما.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ اس بیع میں کوئی شرط شامل نہیں تھی، حضور ﷺ نے حضرت جابر کو بیع کے طے پا جانے کے بعد اونٹ سے استفادہ کی اجازت عاریتاً دی ہے جو شرائط بیع میں نہیں ہے۔ اس لئے یہ معاملہ مشروط بیع کی تعریف میں نہیں آتا۔