Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3009a

Chapter: Sales

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Sales

Zujajat al-Masabih 3009aVolume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man bought land from another and found a jar of gold in it. He said, "Take your gold—I bought only the land." The seller replied, "I sold you the land and all it contains." They took the dispute to a judge, who asked, "Do you have children?" One said, "I have a son," the other, "A daughter." The judge said, "Marry them, spend this wealth on them, and give charity."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٠٩ - وَعَنْهُ(رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اشْتَرَى رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَقَارًا مِنْ رَجُلٍ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ1 ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ بَائِعُ الْأَرْضِ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا. فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ. قَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوْا عَلَيْهِمَا مِنْهُ، وَتَصَدَّقُوْا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3957
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائے ہیں کہ تم سے پہلے (یعنی حضرت داود علیہ السلام) کی امت میں ایک شخص نے دوسرے سے ایک زمین خریدی (خریدی کے بعد) اس زمین میں خریدنے والے نے ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا خریدار نے بیچنے والے سے جا کر کہا تمہارا سونا تم لے لو میں نے تو صرف زمین خریدی تھی اور سونا نہیں خریدا بیچنے والے نے کہا میں نے تم کو زمین اور زمین میں جو کچھ تھا فروخت کر دیا (لہذا یہ سونا بھی تمہارا ہی ہے)۔ یہ دونوں فیصلے کے لئے ایک صاحب کو حکم بنائے (اور وہ ایک روایت کے لحاظ سے حضرت داود علیہ السلام ہیں) حکم نے ان دونوں سے پوچھا تمہاری کوئی اولاد ہے ایک نے کہا میرے ہاں ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میرے ہاں لڑکی ہے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کر دو اور اس سونے کو ان پر خرچ کر دو اور کچھ خیرات بھی کر دو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3472 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1721 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.887

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Take your gold

(1) "Take your gold"—The ruling on incidental inclusions in sales depends on two principles: Whatever is customarily understood as part of the sold property (e.g., buildings) is included without explicit mention. Attached fixtures (e.g., embedded stones) are included, but buried items (e.g., treasure) are not unless specified. If the buyer claims an item was part of the structure and the seller denies it, the seller’s oath is prioritized, as the burden is on the buyer to prove inclusion.

Note 1

قوله

(۱) قوله: خذ ذهبك مني إلخ الأصل أن مسائل ما يدخل في البيع تبعا، وما لا يدخل مبنية على قاعدتين، إحداهما: ما أفاده بقوله: كل ما كان في الدار من البناء يعني كل ما هو متناول اسم المبيع عرفا يدخل بلا ذكر ، وذكر الثانية بقوله: أو متصلا به تبعا لها دخل في بيعها، يعني أن كل ما كان متصلا بالمبيع اتصال قرار، وهو ما وضع، لا لأن يفصله البشر دخل تبعا، وما لا فلا، وما لم يكن من القسمين، فإن من حقوقه ومرافقه دخل بذكرها وإلا لا، فيدخل الحجارة المخلوقة والمثبتة في الأرض والدار لا المدفونة، يدل عليه قولهم: لو اشترى أرضا بحقوقها، وانهدم حائط منها، فإذا فيه رصاص أو ساج أو خشب من جملة البناء كالذي يكون تحت الحائط يدخل، وإن شيئًا مودعا فيه فهو للبائع، وإن قال البائع ليس لي فحكمه حكم اللقطة، فقولهم: «شيئًا مودعا» يدخل فيه الأحجار المدفونة، ويقع كثيرا في بلادنا أنه يشتري الأرض أو الدار، فيرى المشتري فيها بعد حفرها أحجار المرمر والكدان والبلاط، والحكم فيه إن كان مبنيا فللمشتري وإن موضوعا لا على وجه البناء فللبائع، وهي كثيرة الوقوع، فاغتنم ذلك. بقي لو ادعى البائع أنها كانت مدفونة فلم تدخل والمشتري أنها مبنية، فقد يقال: يتحالفان؛ لأنه يرجع إلى الاختلاف في قدر المبيع، وقد يقال: يصدق البائع؛ لأن اختلافهما في تابع لم يرد عليه العقد، والتحالف على خلاف القياس فيما ورد عليه العقد، فلا يقاس عليه غيره، والبائع ينكر خروجه عن ملكه، والأصل بقاء ملكه، فتأمل. كذا في «الدر المختار» و «رد المحتار».

Note 1

ف۔ واضح ہو کہ مکان یا زمین کی خرید و فروخت میں یہ مسئلہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مکان کی فروخت میں ہر وہ چیز داخل ہے جو عرف عام میں مکانیت کے لوازم میں شامل جیسے دیوار، چھت، فرش وغیرہ اس لئے یہ تمام چیزیں مکان کے ساتھ متصور ہوں گی اسی طرح زمین کی فروخت کا بھی معاملہ ہے کہ اس میں ہر وہ چیز داخل ہوگی جو نظر آتی ہو اور عرف عام میں زمین کہلاتی ہے جیسے پتھر مٹی، ٹیلے وغیرہ۔ اب اگر مکان یا زمین کی فروخت کے بعد ان میں کوئی دفینہ نکل آئے یا زمین میں کوئی کان نکل آئے یا ایسی چیز ہو جو زمین کی جنس سے نہ ہو تو وہ بیچنے والے کی ملک ہوگی۔ اور اگر بائع دفینہ یا کان وغیرہ کو اپنی ملک نہ سمجھ کر لینے سے انکار کر دے تو ایسی چیز کا حکم لقطہ کا ہوگا اور وہ لقطہ کے شرائط کے تحت اصل مالک کی ملک ہوگی۔ (درمختار اور رد المحتار)۔