English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Prices rose during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: “O Messenger of Allah, set prices for us.” He said: “Allah is the One who sets prices, the Restrainer, the Expander, the Provider. I hope to meet my Lord with none of you holding a grievance against me for an injustice in blood or wealth.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٢٥ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ1 هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِي.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3975
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے مبارک عہد میں (ایک دفعہ) غلہ کا نرخ گراں ہو گیا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ
ہمارے لئے آپ غلہ کے نرخ مقرر فرما دیجئے (یعنی تاجروں کو پابند فرما دیجئے کہ وہ آپ کے مقرر کردہ
وہ نرخ پر غلہ بیچا کریں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ہی غلہ کے نرخ
مقرر فرماتے ہیں وہی روزی تنگ کرتے ہیں اور کشادہ کرتے ہیں اور رزق عطا فرماتے ہیں (یعنی
اس طرح گھٹانا اور بڑھانا ہوتا ہے) اور میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں
ملوں کہ مجھ پر کسی کے خون یا مال کا مطالبہ نہ ہو۔
اس کی روایت ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1314 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3451 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2200 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Allah is the One who sets prices”: Meaning, a ruler does not set prices, indicating it is disliked, as stated in Al-Multaqa and other sources. This is stated in Radd Al-Muhtar.
Note 1
(۱) قوله : إن الله هو المسعر إلخ : أي لا يسعر حاكم، يعني يكره ذلك، كما في الملتقى» وغيره. كذا في رد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے مال پر اس کی مرضی کے بغیر تصرف اس پر ظلم ہے اور اگر حاکم جبراً و قہراً ایسے احکام نافذ کردے تو تاجر غلہ کو چھپا کر مصنوعی قحط پیدا کرسکتے ہیں۔ اس لئے اسلام میں تالیف قلب کے ذریعہ تاجروں کی اصلاح کی جاتی ہے کہ وہ انصاف اور مخلوق پر شفقت کے ذریعہ کے ساتھ اپنے کاروبار انجام دیں۔ (اشعۃ اللمعات)۔