English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The delay of a wealthy person is injustice. If one of you is referred to a solvent person, let him follow.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٤١ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمُ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِي فَلْيَتْبَعْ»1. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3995
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا ہے کہ مالدار کا (اپنے قرض کی) ادائی میں (باوجود استطاعت کے) دیر کرنا ظلم ہے (اور حرام
ہے) اور کوئی (تنگدست قرضدار (اپنا قرض ادا نہ کر سکے اور) کسی مالدار کا حوالہ دیدے تو قرضدار کو
چاہئے کہ (اس حوالہ کو) قبول کر لے۔ اس کی روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2287 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1564a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Let him follow”: An-Nawawi said: The view of our companions and the majority is that the command is for recommendation. Some said it is for permissibility, and others said it is obligatory. This is stated in Al-Marqah and Umdat Al-Qari.
Note 1
(۱) قوله : فليتبع : قال النووي: ومذهب أصحابنا والجمهور أن الأمر للندب، وقيل للإباحة، وقيل: للوجوب. قاله في «المرقاة» وكذا في عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہو کہ حوالہ قبول کرنے کی ایک مثال یہ ہو سکتی ہے کہ زید نے بکر سے قرض لیا اور زید مالدار ہے اور ایک تیسرے شخص نے بکر سے قرض لیا اور بکر نے اپنے قرض کا مطالبہ کیا تو اگر بکر نے قرض کا حوالہ زید پر دیا جس کا وہ مقروض ہے تو ایسی صورت میں تیسرے شخص کو چاہئے کہ وہ اس حوالہ کو قبول کر لے بشرطیکہ زید بھی اس حوالہ کو مان لے۔ (ترمذی)۔