English
Muhammad ibn ‘Abdullah ibn Jahsh (may Allah be pleased with him) narrated: We were sitting in the courtyard of the mosque where funerals are placed, and the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting among us. He raised his gaze to the sky, looked, then lowered his gaze and placed his hand on his forehead, saying: “Glory be to Allah, glory be to Allah, what a severe matter has descended.” We remained silent that day and night, not seeing any good until morning. Muhammad said: I asked the Messenger of Allah (ﷺ): “What is the severe matter that descended?” He said: “Regarding debt. By the One in Whose hand is Muhammad’s soul, if a man is killed in the way of Allah, then lives, then is killed in the way of Allah, then lives, and has a debt, he will not enter Paradise until his debt is paid.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٤٧ - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ابْنِ جَحَشِ (رضي الله عنه)، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ1 يُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللهِ ﷺ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا، فَلَمْ نَرَهَا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا،
قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ : مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: «فِي الدَّيْنِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ» نَحْوُهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4002
محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم (یعنی صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم) مسجد نبوی کے صحن میں اس مقام پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں جنازے (نماز جنازہ کے لئے)
رکھے جاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے یکایک
آپ ﷺ نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں اور (آسمان کی طرف کچھ) ملاحظہ فرمایا اور
نظریں نیچی فرما لیں اور پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھ کر (بطور حیرت اور استعجاب کے) فرمایا پاک ہے اللہ!
پاک ہے اللہ! آج کس قدر سختی نازل ہوئی ہے راوی کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) ہم ایک دن اور ایک
رات خاموش رہے (اس انتظار میں کہ دیکھیں کیا سختی پیش آتی ہے) لیکن ہم کو بوجہ بھلائی کے کوئی
اور چیز نظر نہ آئی یہاں تک کہ (دوسرا دن) شروع ہو گیا۔ راوی حدیث محمد بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ
میں نے جرأت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ حضور! وہ کیا سختی تھی جس
کا آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کل ذکر فرمایا تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سنو! (وہ
سختی) قرض کے بارے میں تھی! (یہ کہہ کر آپ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے (ادائی قرض کی اتنی اہمیت ہے کہ) اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں
مارا جائے پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو
اور اس پر کچھ قرض ہو تو بھی وہ (اتنی بار راہ خدا میں مارے جانے کے باوجود) اس وقت تک جنت
میں داخل نہ ہو گا جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور شرح السنہ میں بھی اسی طرح مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2922 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 2922
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “Where funerals are placed”: This indicates that they did not pray over funerals inside the noble mosque. This is stated in Al-Marqah.
Note 1
(۱) قوله: حيث يوضع الجنائز فيه دليل على أنهم لم يكونوا يصلون على الجنائز داخل المسجد الشريف. كذا في «المرقاة».