اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3643
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ بن عمر
رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا کہ حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
دریافت کیا کہ (نویں ذوالحجہ کو) عرفہ کے دن ہم وقوف عرفات کے موقع پر (ظہر اور عصر کو) کس
طرح ادا کریں، یہ اس سال کا واقعہ ہے جس سال حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو
شہید کیا تھا (اس وقت سالم اپنے والد حضرت ابن عمر کے ساتھ تھے) سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (یہ
سن کر حجاج سے) میں نے کہا اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو عرفہ کے
دن ظہر اور عصر کو (زوال کے بعد) اول وقت ملا کر ادا کر (حضرت سالم کے اس جواب کو سن کر ان
کے والد) حضرت ابن عمر نے فرمایا سالم نے سچ کہا ہے (اور حجاج جیسے ظالم کے روبرو کلمۂ حق کہہ کر
اس کے ظلم سے صحیح و سالم رہا اور اس کی ماں نے اس کا نام جو سالم رکھا وہ درست ہے) کہ صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں ظہر اور عصر کو (باجماعت عرفات میں) ملا کر
ادا کرتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں (یہ سن کر) میں نے حضرت سالم سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی عمل تھا (کہ آپ یہاں ظہر اور عصر کو ملا کر ادا فرمائے ہیں؟) تو حضرت سالم
رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی کرتے ہیں
(اور اسی اتباع نبوی میں عرفات میں ظہر اور عصر کو باجماعت ایک ساتھ اول وقت ایک اذان اور دو
اقامتوں کے ساتھ ادا کرتے تھے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1662 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) "Pray Zuhr early" - In Al-Nihayah: "Al-Tahjir means takbir in all things." Here it means praying Zuhr and Asr combined at the beginning of Zuhr time. This suggests they were residents (not travelers), indicating this combination is a ritual concession, not due to travel. (Al-Maraqi)
Note 1
(۱) قوله: فهجر بالصلاة يوم عرفة: في النهاية»: التهجير التكبير في كل شئ فالمعنى صلى الظهر والعصر : جمعا أول وقت الظهر، والظاهر أن الحجاج وابن عمر وولده كانوا مقيمين، فيفيد أن هذا الجمع جمع نسك لا جمع سفر. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ عرفات میں عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنا اس دن کی خصوصیت ہے اور یہ جمع بین الظہر والعصر مسافرت کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر اور ان کے صاحبزادے حضرت سالم مقیم تھے اور مقیم ہونے کے باوجود انہوں نے عرفات میں عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو حجاج کے ساتھ ملا کر ادا فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جمع بین الصلاتین جمع نُسُک ہے یعنی منجملہ مناسک حج کے ہے، جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12 ف(2): واضح ہو کہ عرفہ کے دن عرفات میں ظہر اور عصر کو ملا کر ادا کرنے کے کئی شرائط ہیں:۔ (1) ایک یہ کہ خلیفۂ وقت یا خلیفہ کا نائب امامت کرے ورنہ سارے حاجی اپنی اپنی جگہ ظہر اور عصر کو اس کے وقت پر ادا کریں اس لئے کہ پورے میدان عرفات میں سوائے وادی عرفہ کے ٹھہرنا درست ہے۔ اور اگر کوئی شخص تنہا ظہر پڑھے تو وہ عصر بھی تنہا ہی ادا کرے۔ (2) دوسری شرط یہ ہے کہ دونوں نمازوں کی ادائی کے وقت حج کا احرام ہو۔ (3) تیسری شرط یہ ہے کہ عرفہ کا دن ہو، اور عرفات کا میدان ہو۔ (4) چوتھی شرط یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہو۔ جس کا امام خلیفہ یا اس کا نائب ہو۔ (5) پانچویں شرط یہ ہے کہ زوال کے بعد پہلے ظہر پڑھی جائے اور پھر نماز عصر۔ درمختار فتاویٰ عالمگیری اور ردالمحتار میں مذکور ہے کہ آج کل مذکورہ شرائط مسجد نمرہ میں ہوتی ہیں۔12