Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْبُيُوعِ

Hadith 3075a

بَابُ الْغَصَبِ وَالْعَارِيَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْبُيُوعِ

بَابُ الْغَصَبِ وَالْعَارِيَةِ

Zujajat al-Masabih 3075aVolume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٧٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «الرَّجُلُ1 جُبَارٌ»، وَقَالَ: «النَّارُ2 جُبَارٌ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4594 (unverified) 80% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4593 (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

The rider’s damage…

(1) “The rider’s damage…”: Abu Hanifah says if a rider’s animal kicks someone, it is void; if it strikes with its hand, it is guaranteed, as the rider controls the front, not the back. Ash-Shafi‘i says hand and leg are equally guaranteed. [From Al-Marqah].

Note 2

Fire’s damage…

(2) “Fire’s damage…”: If a man lights a fire on his property and wind carries it to another’s, beyond his control, it is void, if lit when the wind was still and then blew. [From Al-Luma‘at].

Note 1

قوله

(۱) قوله: الرجل جبار عليه أبو حنيفة، يعني أن راكب دابة إذا رمحت، أي طعنت دابته إنسانًا برجلها، فهو هدر، وإن ضربته بيدها فهو ضمان؛ وذلك لأن الراكب يملك تصرفها من قدامها دون خلفها، وقال الشافعي: اليد والرجل سواء في كونهما مضمونتين. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: النار جبار : يعني ما أحرقته النار التي يوقدها الرجل في ملكه فيطير بها الريح إلى ملك غيره من حيث لا يمكنه ردُّها فهو هدر، وهذا إذا أوقد في وقت سكون الريح، ثم هبت الريح، كذا في «اللمعات».

Note 1

ف: مذکورہ بالا دونوں حدیثوں میں جانور یا آگ سے نقصان ہوجانے پر تاوان کا نہ ہونا بطور اطلاق اور عمومیت کے ہے، یہی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ کسی کا جانور غیر کے مال کو تلف کر دے خواہ دن کا وقت ہو کہ رات کا تو اس جانور کے مالک پر اس تلف شدہ سامان کا تاوان عائد نہ ہوگا بشرطیکہ مالک اپنے جانور کے ساتھ نہ ہو۔ البتہ مالک ساتھ ہو اور اس کو ہانک رہا ہو تو ایسی صورت میں مالک پر تاوان عائد ہوگا۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی جگہ آگ روشن کرے اور اس کی چنگاری اڑ کر کہیں جا پڑے اور نقصان کر دے تب بھی تاوان نہیں عائد ہوگا بشرطیکہ آگ جلانے والے کی نیت کسی کو نقصان پہنچانے کی نہ ہو۔ آگ سے نقصان کا تاوان اس صورت میں بھی نہ ہوگا جب کہ آگ جلاتے وقت تیز ہوا نہ چل رہی ہو جس سے آگ کے دوسری طرف پھیلنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے، البتہ تیز ہواؤں کے وقت آگ روشن کرنے والے کو اس کی احتیاط رکھنی چاہئے کہ اس کی آگ سے دوسرے کو نقصان نہ پہنچے، ورنہ اس سے تاوان لیا جائے گا۔ از مرقات اور لمعات۔