Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3097a

Chapter on Musaqah and Muzara‘ah

In this book

Current reading

Sales

Chapter on Musaqah and Muzara‘ah

Zujajat al-Masabih 3097aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4074
عمرو بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے کہا کیا اچھا ہوتا کہ آپ مخابرہ یعنی بٹائی کے معاملہ کو چھوڑ دیتے کیونکہ اہل علم حضرات کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایسے معاملہ سے منع فرمایا ہے، تو (یہ سن کر) طاؤس نے عمرو بن دینار سے کہا میں لوگوں کو زمین (بٹائی پر) دیتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں اور (مدینہ کے) سب سے بڑے عالم یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے (بٹائی سے) نہیں منع فرمایا ہے لیکن یوں فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (کھیتی کرنے کے لئے زمین بطور) عطیہ دے یہ بہتر ہے اس بات سے کہ وہ اس (زمین پر) مقرر کر کے کچھ معاوضہ لے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2330 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1550a (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

Better than a known rent…

(3) “Better than a known rent…”: Due to the risk of drought or crop failure, losing the payment. At-Tahawi explains the prohibition via Zaid ibn Thabit: “May Allah forgive Rafi‘ ibn Khadij. I was more knowledgeable of the hadith. Two Ansar men fought and came to the Prophet (ﷺ), who said, ‘If this is your state, do not lease farms.’” Zaid said the Prophet’s (ﷺ) prohibition was not for unlawfulness but to avoid conflict. Ibn Abbas clarified it was for leniency, not prohibition. [From Al-Marqah and Umdat Al-Qari].

Note 1

قوله

(۱) قوله: خير له من أن يأخذ عليه خرجا معلوما: لاحتمال أن تمسك السماء مطرها أو الأرض ريعها، فيذهب ماله بغير شيء. قاله في المرقاة». وقال في عمدة القاري : وقد بين الطحاوي علة النهي في حديث رافع عن زيد بن ثابت ه أنه قال: يغفر الله لرافع بن خديج أنا والله كنت أعلم منه بالحديث، إنما جاء رجلان من الأنصار إلى رسول الله قد اقتتلا، فقال: إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزاع، فسمع قوله : لا تكروا المزارع. قال الطحاوي: فهذا زيد بن ثابت يخبر أن قول النبي : لا تكروا المزارع النهي الذي قد سمعه رافع لم يكن من النبي ﷺ على وجه التحريم، وإنما كان لكراهية وقوع الشر بينهم. وأخرجه أبو داود والنسائي وابن ماجه أيضًا، وبين ابن عباس ما أن ما كان من النبي له في ذلك لم يكن للنهي، وإنما أراد الرفق بهم.

Note 1

ف: واضح ہو کہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا ہے کہ مخابرہ یہ ہے کہ ایک چیز کے معاوضہ میں دوسری چیز لی جائے۔ یعنی مالک زمین اپنی زمین کو کچھ نقدی لے کر کرایہ پر دے۔ اس میں اندیشہ یہ ہے کہ اگر بارش نہ ہو یا کھیتی کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو کرایہ دار کا سراسر نقصان ہو جاتا ہے اور یہ چیز بعض وقت جھگڑے اور فساد کا سبب بن جاتی ہے اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے معاملہ سے منع فرمایا ہے۔ اس کے برخلاف بغیر معاوضہ کے اگر اپنے بھائی کو زمین دے دی جائے تو یہ احسان کی بات ہے اور بہتر ہے۔