اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3678
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں جب
تنگی کی وجہ سے لوگوں کو احتیاج تھی تو) ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھ کر نہیں کھاتے
تھے (بلکہ لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے وسعت دے دی اور) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اجازت دے دی کہ تم (قربانیوں کے گوشت کو) کھاؤ اور توشہ بناؤ
،یعنی تین دن کے بعد بھی گوشت رکھ سکتے ہو) تو ہم نے کھایا اور توشہ بھی بنایا۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1719 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1972a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Eat..." etc. For this reason, it is said in Al-Hidayah: "One may eat from the meat of the sacrifice, and give to both the wealthy and the poor, and store some of it."
Note 1
(۱)قوله : كلوا إلخ لذلك قال في «الهداية»: ويأكل من لحم الأضحية، ويطعم الأغنياء والفقراء، ويدخر.
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ واجب قربانی جیسے تمتع اور قران کی قربانی کے گوشت کو خود بھی کھا سکتے ہیں اور اغنیاء اور فقراء کو بھی کھلا سکتے ہیں اور اس کا ذخیرہ بھی بنا سکتے ہیں البتہ نفل قربانی اور دم کی قربانی جو بطور جنایات و جرمانہ لازم آئے ایسی قربانیوں کا گوشت خود نہ کھائے بلکہ صرف غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دے۔ ہدایہ میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔12