Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْبُيُوعِ

Hadith 3111a

بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ وَالشَّرْبِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْبُيُوعِ

بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ وَالشَّرْبِ

Zujajat al-Masabih 3111aVolume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۱۱ - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدُ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ ، فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ عَلَيْهِ، فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى، قَالَ: «فَهِبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا أَمْرًا رَغَبَهُ فِيهِ فَأَبَى، فَقَالَ: «أَنْتَ مُضَارٌ»، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ: «اذْهَبْ [فَاقْلَعْ] نَخْلَهُ»1. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3636 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) The statement: Uproot his palm trees—he ordered the Ansari to uproot the palm trees because it was clear that Samurah was harming him, as it was known that they were planted on borrowed land. As stated in Al-Marqah. In Al-Hidayah: If someone borrows land to build or plant, it is permissible, and the lender can retract and require the removal of the building or plants.

Note 1

قوله

(۱)قوله: فاقلع نخله : وإنما أمر الأنصاري بقلع النخل لما تبين له أن سمرة يضاره لما علم أن غرسها كان بالعارية. قاله في «المرقاة». وقال في «الهداية»: وإذا استعار أرضًا ليبني فيها أو ليغرس جاز، وللمعير أن يرجع فيها وكلفه قلع البناء والغرس.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں حضورﷺ نے ان انصاری کو سمرہ رضی اللہ عنہ کے کھجور کے درخت کاٹنے کا حکم اس لئے دیا کہ سمرہ کے وہاں آنے جانے سے ان انصاری کو تکلیف پہنچ رہی تھی جبکہ ان انصاری نے حضرت سمرہ کو زمین عاریۃً دی تھی۔ یہ مرقات میں مذکور ہے اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی زمین عاریۃً لے تاکہ اس میں مکان بنائے یا درخت لگائے تو جائز ہے، اور مالک زمین کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی وقت بھی اپنی ضرورت پر اپنی عاریۃً کو اٹھا سکتا ہے اور عاریۃً لینے والے کی تعمیر کو توڑ سکتا ہے اور درخت ہوں تو کاٹ سکتا ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تینوں تجویزوں کو قبول نہ کیا۔ اس بارے میں صاحب مرقات اور صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تینوں تجویزیں بطور سفارش تھیں بطور لزوم اور حکماً نہ تھیں ورنہ حضرت سمرہ جیسے جلیل القدر صحابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو ٹال نہیں سکتے تھے۔