Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Hadith 3125

بَابُ خُطْبَةِ(۱) يَوْمِ الرُّءُوسِ وَرَحْيِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّوْدِيعِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

بَابُ خُطْبَةِ(۱) يَوْمِ الرُّءُوسِ وَرَحْيِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّوْدِيعِ

Zujajat al-Masabih 3125Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٢٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ وَنَحْنُ بِمِنَّى: «نَحْنُ2 نَازِلُوْنَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوْا عَلَى الْكُفْرِ». وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةً تَخَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوْا إِلَيْهِمْ رَسُوْلَ اللهِ ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1590 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

We will stop at Khayf...

(1) "We will stop at Khayf..." - This shows he intentionally stopped there to reflect on Allah's favor in changing his situation from being besieged to being victorious. This remembrance is part of worship, making it Sunnah for the ummah to emulate this reflection on Allah's blessings. (Fath al-Qadir)

Note 2

قوله

(۲) قوله: نحن نازلون غدا إلخ فثبت بهذا أنه نزله قصدا، ليرى لطيف صنع الله به، وليتذكر فيه نعتمه سبحانه عليه عند مقايسة نزوله به الآن إلى حاله قبل ذلك، أعني حال انحصاره من الكفار في ذات الله تعالى، وهذا أمر يرجع إلى معنى العبادة، ثم هذه النعمة التي شملته الله من النصر والاقتدار على إقامة التوحيد، وتقرير قواعد الوضع الإلهي الذي دعا الله تعالى إليه عباد، ولينتفعوا به في دنياهم ومعادهم، لا شك في أنها النعمة العظمى على أمته؛ لأنهم مظاهرالمقصود من ذلك المؤزر، فكل واحد منهم جدير بتفكرها، والشكر التام عليها؛ لأنها عليه أيضًا، فصار سنة كالرمل في الطواف في حقهم؛ لأن معنى العبادة في ذلك بتحقق في حقهم أيضًا. كذا في فتح القدير».

Note 1

ف: صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مناسک حج سے فراغت کے بعد منی سے مکہ معظمہ کو جاتے ہوئے بالارادہ مقام محصب قیام فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی مشرکین مکہ نے اسی مقام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور بنو ہاشم اور بنو المطلب سے اسی وجہ سے مقاطعہ بھی کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو کو خاک میں ملا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مبین عطا فرمائی۔ اسی شکرانہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مقام محصب میں اپنے اس مبارک سفر حج کے اختتام کے موقع پر یہاں قیام فرمایا اور چاروں نمازیں یہاں ادا فرمائیں اور محصّب میں قیام کی مثال ایسی ہے جیسے طواف قدوم میں رمل کیا جاتا ہے جس سے مقصود کفر پر اسلام کے غلبہ کا اظہار تھا اور یہ عمل آج بھی مسنون ہے۔ اسی لئے محصّب میں قیام حجاج کرام کے لئے امام اعظم رحمہ اللہ کے پاس مسنون ہے۔12