Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3149a

Chapter: Found Property

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Found Property

Zujajat al-Masabih 3149aVolume 2

اردو

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے (تو آپ نے دیکھا کہ) حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما رو رہے ہیں حضرت علیؓ نے دریافت فرمایا کہ کس چیز نے ان کو رلایا ہے؟ بی بی فاطمہؓ فرمائیں کہ بھوک (ان کو رلا رہی ہے) حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے آپ کو بازار میں ایک دینار ملا۔ تو آپ بی بی فاطمہؓ کے پاس تشریف لائے اور ان کو (دینار کے ملنے کی) خبر دی۔ بی بی فاطمہؓ نے فرمایا آپ فلاں یہودی کے پاس جا کر ہمارے لئے آٹا لے آئیے آپ اس یہودی کے پاس گئے اور اس (دینار) سے آٹا خریدا۔ اس یہودی نے کہا (کیا) تم ان حضرت کے داماد ہو جو کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں! حضرت علیؓ نے فرمایا: ہاں! تو اس (یہودی) نے کہا اپنا دینار آپ لے لیجئے اور آٹا بھی (بغیر قیمت کے) آپ کا ہے۔ حضرت علیؓ اس کے پاس سے نکلے اور آٹا لے کر بی بی فاطمہ کے پاس پہنچے اور ان کو (یہودی کا واقعہ) سنایا۔ بی بی فاطمہؓ نے فرمایا اس (دینار) کو فلاں قصاب کے پاس لے جاؤ اور ہمارے لئے ایک درہم کا گوشت لاؤ، حضرت علیؓ (قصاب کے پاس) پہنچے اور اس دینار کو رہن رکھ کر ایک درہم کا گوشت لائے۔ بی بی فاطمہؓ نے آٹا گوندھا چولہا سلگایا اور روٹی پکائی اور اپنے ابّا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کو بلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے بی بی فاطمہؓ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کو (پہلے) پورا واقعہ سناتی ہوں اگر آپ اس (کھانے) کو ہمارے لئے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں گے اور آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے (پھر بی بی فاطمہؓ نے دینار کے ملنے اور اس کے خرچ کرنے کا پورا واقعہ سنایا، واقعہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”بسم اللہ“ کہو اور کھاؤ۔ سب نے کھانا شروع کیا ابھی سب کھانا کھا رہے تھے کہ اس اثناء میں ایک لڑکا اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنے دینار (کے گم ہو جانے) کا اعلان کر رہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو بلایا جائے تو اس کو بلایا گیا۔ اس سے آپ نے (دینار کے بارے میں) دریافت کیا تو اس نے جواب دیا (دینار) بازار میں مجھ سے گر گیا تھا تو (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یا علی! اس قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے فرمایا ہے کہ اس دینار کو میرے پاس بھیج دیں اور درہم (کا جو گوشت لیا گیا ہے اس کی ادائی) میرے ذمہ ہے اس (قصاب) نے دینار کو بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینار اس کے مالک کو دے دیا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور اس حدیث کی روایت عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں کی ہے اور اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ آپ تین دن تک اس (دینار کے ملنے) کا اعلان فرماتے رہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) لقطہ کا اعلان کرتے رہو، اگر کوئی (ایسا شخص جو اس کا مالک ہو) آئے اور تمہیں اس کی تعداد اور وہ ظرف یا تھیلی جس میں وہ رکھی ہوئی ہو اور سربند (یہ سب تفصیل) بتائے تو تم اس کو دیدو ورنہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے (راستہ میں) ایک تھیلی پائی جس میں ایک سو(100) دینار تھے میں (اس کو لے کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو تو میں ایک سال تک اعلان کرتا رہا (مالک نہ ملا) تو میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ایک سال اور اعلان کرتے رہو تو میں ایک سال اور اعلان کرتا رہا (پھر بھی مالک نہ ملا) تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے (تیسری بار) فرمایا: ایک سال اور اعلان کرتے رہو تو میں (تیسرے) سال پھر اعلان کرتا رہا (مالک نہ ملا) تو میں حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ (یا رسول اللہ!) ان (دیناروں) کو پہچان کر لینے والا نہ ملا تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ان کی تعداد، تھیلی اور سربند (سب) یاد رکھو اور اگر ان کا مالک آ جائے (تو اس کو دیدو) ورنہ ان کو (استعمال کرو) اور فائدہ اٹھاؤ۔ اور بزار اور دارقطنی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا (بغیر اعلان کے) لقطہ میں سے کوئی چیز (کا استعمال) جائز نہیں تو ایک سال تک اس کا اعلان کرنا چاہئے۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کو واپس کر دے اگر وہ نہ آئے تو اس کو خیرات کر دے اور (خیرات کرنے کے بعد مالک) آئے تو اس کو اختیار دیدے کہ وہ (خیرات کا) ثواب لے لے یا اپنا حق لے لیوے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ (اگر مالکِ لقطہ نہ آئے) اور لقطہ اٹھانے والا غنی ہے تو اس کو خیرات کر دے اور اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور اس کو اپنی ملکیت میں بھی نہ رکھے۔ اور ابوداود کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ایک سال تک اعلان کرتے رہو اگر اس کا تلاش کرنے والا آجائے تو اس کو دیدو ورنہ پھر اس کی تھیلی اور سربند کو یاد رکھو پھر اس کو کھالو (یعنی استعمال کرلو) اس کے بعد اس کا تلاش کرنے والا آئے تو اس کو (اس کا بدل) دے دو۔ اور بخاری اور مسلم کی روایتوں میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ لقطہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اگر وہ سونے اور چاندی کی چیزیں ہوں (تو کیا کیا جائے؟) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان کے سربند اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لو پھر ایک سال تک ان کا اعلان کرتے رہو اور اگر تم کو (مالک) نہ ملے ان کو خرچ کرلو اور وہ تمہارے پاس بطور امانت کے ہوں گے پھر اس کا طالب آئندہ کسی وقت بھی آجائے تو تم اس کو اس کے (درہم یا دینار) دیدو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1716 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (21)

Note 1

fa

(1) The statement: They ate—There is no indication of not announcing it or not waiting until it is likely the owner will not claim it. The “fa” may indicate mere sequence, not immediate succession, depending on the context. For example, it is said, “So-and-so married, and a child was born to him,” even if the interval is only the pregnancy period, though it is long. Allah says: Have you not seen that Allah sends down water from the sky, and the earth becomes green? [Al-Hajj: 63]. As stated in Al-Marqah. In Nasb Ar-Rayah: Perhaps the interpretation is that announcement has no specific form to be valid, and consulting the Messenger of Allah (ﷺ) publicly is an announcement, supporting sufficing with one announcement. They differed on the announcement period. Muhammad, Malik, and Shafi’i set it at a year, regardless of value, based on some narrations’ apparent meaning. The sounder view according to Abu Hanifah and Abu Yusuf is that it is not fixed but delegated to the finder’s judgment, announcing until they believe the owner will not claim it. This is the chosen view of Shams Al-A’immah As-Sarakhsi, and the fatwa is based on it, as in Jami’ Al-Mudmarat and Al-Jawhara. The mention of a year in the narration is incidental, based on the norm, as stated in Sharh Al-Wiqayah, Umdat Ar-Ri’ayah, and Al-Luma’at.

Note 2

(2) The statement: Announced it for three days—This supports Shams Al-A’immah’s chosen view that fixing a year or otherwise is not binding, but it is until the finder is satisfied the owner has given up. As stated in Fath Al-Qadir.

Note 3

(3) The statement: Announce it, etc.—The sounder view is that no fixed announcement period is binding, and it is delegated to the finder’s judgment due to this narration’s generality. The restriction to a year may be because the property in question required it. As stated in Al-Marqah.

Note 4

(4) The statement: Announced it for a year, etc.—This supports Shams Al-A’immah’s view that a year is not a fixed requirement, but it depends on the finder’s belief about the owner’s intent, varying by the property’s value. Since it was valuable, he was ordered to announce for three years. As stated in Fath Al-Qadir.

Note 5

O Messenger of Allah, Allah says, You will not attain righteousness until you spend of what you love [Aal-E-Imran: 92]. The property I love most is Bayrha’. What do you think, O Messenger of Allah?

(5) The statement: Use it—This narration apparently contradicts the Hanafis’ view that a rich finder may not use it. The narration suggests a rich finder may use it, as Ubayy ibn Ka’b was among the Prophet’s wealthy companions, yet the Messenger of Allah (ﷺ) permitted him to use it. The response is the narration in the two Sahihs from Abu Talhah: “O Messenger of Allah, Allah says, You will not attain righteousness until you spend of what you love [Aal-E-Imran: 92]. The property I love most is Bayrha’. What do you think, O Messenger of Allah?” He said, “Give it to the poor among your relatives.” Abu Talhah gave it to Ubayy and Hassan. This clearly shows Ubayy was poor, though he may have become wealthy later. When circumstances allow for probability, evidence is weakened. As stated in Bazl Al-Majhood and Nasb Ar-Rayah, summarized. In Al-Hidayah: Ubayy’s use was with the leader’s permission, which is permissible. Tirmidhi said after Ubayy’s narration: This is the practice among scholars, the view of Shafi’i, Ahmad, and Ishaq, who said the finder may use it if rich. If found property were only lawful for those eligible for charity, it would not be lawful for Ali ibn Abi Talib, yet he was ordered to consume the dinar when he found it and no one recognized it. Tirmidhi’s point is that use does not mean charity. Imam As-Sarakhsi responded in Al-Mabsut: Regarding Ali’s narration, obligatory charity was not lawful for him, but this was not of that type. It was voluntary charity, permissible for the Prophet’s family according to most of us, so we permit found property for ascendants and descendants, distinguishing between zakat and giving found property in charity. As stated in Bazl Al-Majhood and Al-Arf Ash-Shadhi.

Note 6

Give it in charity, etc.—Al-Qadi said

(6) The statement: Give it in charity, etc.—Al-Qadi said: If someone finds property, announces it for a year, and the owner does not appear, they may own it, whether rich or poor, as held by Shafi’i and Ahmad. Ibn Abbas said: The rich give it in charity and neither use nor own it, as held by Abu Hanifah’s companions, supported by this narration. As stated in Al-Marqah.

Note 7

(7) The statement: It is narrated from Ibn Abbas, etc.—As stated in Al-Marqah.

Note 8

Then consume it, and if its seeker comes, deliver it to them—Al-Hafiz said

(8) The statement: Then consume it, and if its seeker comes, deliver it to them—Al-Hafiz said: Scholars differed on whether, after announcing for a year and disposing of the property, the finder is liable if the owner comes. The majority said the item must be returned if it exists, or its value if consumed. Al-Karabisi, a Shafi’i companion, disagreed, as did Bukhari and Dawud ibn Ali, the Zahiri leader, though Dawud agreed with the majority if the item exists. The majority’s evidence includes the upcoming narration, Let it remain a trust with you, and Muslim’s narration, Note its container and tie, then consume it, and if its owner comes, deliver it to them, and more explicitly, Abu Dawud’s narration: If its seeker comes, deliver it to them; otherwise, note its container and tie, then consume it, and if its seeker comes, deliver it to them. The command to deliver it before and after permitting consumption is the majority’s strongest evidence. As stated in Bazl Al-Majhood.

Note 9

(9) The statement: Deliver it to them—Meaning if the claimant proves its mark, it is lawful to deliver, but not obligatory without proof, according to us. Shafi’i said delivery is obligatory if the mark is proven. According to us, delivery is not judicially required without evidence, but conscientiously, it should be returned. As stated in Sharh Al-Wiqayah and Al-Arf Ash-Shadhi. In Al-Inayah: We say the command in this narration must be interpreted as permission to reconcile with the well-known narration, The burden of proof is on the claimant. If not interpreted as permission but obligation, it would lead to contradiction necessitating abandonment.

Note 10

(10) The statement: Spend it, etc.—This indicates clearly that found property is a trust with the finder. The command to spend on oneself is not for ownership but because its purpose is charity. If the finder is poor and needy, it is permitted to give charity to oneself, as the Messenger of Allah (ﷺ) ordered delivery to the owner after spending, meaning the item if it exists or its value if consumed. As stated in Bazl Al-Majhood.

Note 1

قوله

(۱)قوله: فأكلوا وليس فيه ما يدلُّ على عدم التعريف، ولا على عدم التوقف قدر ما يغلب على الظن أن صاحبه لا يطلبه، فإن الفاء قد تأتي لمجرد البعدية، فتقييد الترتيب، وعلى تقدير أن تكون للتعقيب فهو في كل شيء بحسبه. ألا ترى أنه يقال : تزوج فلان فولد له إذا لم يكن بينهما إلا مدة الحمل، وإن كانت مدة متطاولة، وقال تعالى: ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَةً (الحج: ٦٣). قاله في المرقاة». وقال في «نصب الراية»: ولعل تأويله أن التعريف ليس له صيغة يعتد بها، فمراجعته لرسول الله ﷺ على ملأ الخلق إعلان به ، فهذا يؤيد الاكتفاء بالتعريف مرة واحدة، انتهى. ثم اختلفوا في مدة التعريف قدرها محمد ومالك والشافعي بحول من غير فصل بين القليل وبين الكثير بظاهر بعض الأحاديث. والصحيح عند أبي حنيفة وأبي يوسف أنها غير مقدرة بمدة معلومة، بل هي مفوضة بهذه الأحاديث إلى رأي الملتقط، فيعرفها إلى أن يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك، هذا هو الذي اختاره الشمس الأئمة السرخسي. وفي جامع المضمرات» و «الجوهرة»: عليه الفتوى. وذكرُ السَّنَةِ في الحديث وقع اتفاقا باعتبار الغالب، شرح الوقاية» و «عمدة الرعاية» و«اللمعات» ملتقط منها.

Note 2

قوله

(۲) قوله : عرفه ثلاثة أيام فيه دليل لمختار شمس الأئمة من أن التقدير بحول وغيره ليس بلازم، بل إلى أن تسكن نفسه إلى أن طالبه قطع نظره عنه. كذا في «فتح القدير».

Note 3

قوله

(۳) قوله : عرفها إلخ والصحيح أن شيئًا من تقدير التعريف ليس بلازم، وإن تفويض التقدير إلى رأي الملتقط لإطلاق هذا الحديث. والتقييد بالسنة لعله لكون اللقطة المسئول عنها كانت تقتضي ذلك، كذلك في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤)قوله: فعرفتها حولا إلخ واستدل على ما اختاره شمس الأئمة بهذا الحديث أن ليس السنة بتقدير لازم، بل ما يقع عند المتلقط أن صاحبه يتركه أولا، وهذا يختلف باختلاف خطر المال. ألا ترى أن المال لما كان ذا خطر كبير أمره أن يعرفه ثلاث سنين. قاله في فتح القدير».

Note 5

قوله

(٥)قوله: فاستمتع بها هذا الحديث بظاهره يخالف ما ذهب إليه الأحناف من أنه إذا كان الملتقط غنيا لا يجوز له الانتفاع بها. وهذا الحديث يدلُّ على أن الملتقط إذا كان غنيا يجوز له الانتفاع بها؛ لأن أبي بن كعب كان من مياسير أصحاب النبي له وأغنيائهم، ومع هذا فأباح رسول الله ﷺ الانتفاع بها. فالجواب عنه ما في الصحيحين عن أبي طلحة. قلت: يا رسول الله، إن الله تعالى يقول: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ٩٢) وإن أحب أموالي إلي بيرحاء، فما ترى يا رسول الله ؟ فقال رسول الله : اجعلها في فقراء قرابتك، فجعلها أبو طلحة في أبي وحسان، انتهى. فهذا صريح في أن أبيا كان فقيرًا، لكن يحتمل أنه أيسر بعد ذلك، وقضايا الأحوال متى تطرق إليها الاحتمال سقط منها الاستدلال، بذل المجهود» و «نصب الراية» ملخصا. وقال في «الهداية»: وانتفاع أبي الله كان بإذن الإمام، وهو جائز بإذنه، انتهى. وقال الترمذي عقيب حديث أبي: والعمل عليه عند أهل العلم، وهو قول الشافعي وأحمد وإسحاق قالوا لصاحب اللقطة: إن ينتفع بها إذا كان غنيا. ولو كانت اللقطة لا تحل إلا لمن تحل له الصدقة، لم تحل لعلي بن أبي طالب، وقد أمره عليه بأكل الدينار حين وجده ولم يجد من يعرفه، انتهى. وغرض الترمذي أنه انتفاع به لا تصدق. وقد أجاب عنه الإمام السرخسي في مبسوطه فقال: وأما حديث علي فنقول: إن الصدقة الواجبة كانت لا تحل، وهذا لم تكن من تلك الجملة، بل أنه صدقة نافلة، وهي جائزة لأهل البيت عند أكثرنا، ولذا قلنا بجواز اللقطة على الفروع والأصول، فافترق الزكاة والتصدق باللقطة بذل المجهود و العرف الشذي ملتقط منهما.

Note 6

قوله

(٦)قوله: فليتصدق به إلخ : قال القاضي : إن من التقط لقطة وعرفها سَنَةً ولم يظهر صاحبها، كان له تملكها، سواء كان غنيا أو فقيرًا، وإليه ذهب الشافعي وأحمد. وروي عن ابن عباس لما أنه قال: يتصدق بها الغني، ولا ينتفع بها، ولا يتملكها، وبه قال أصحاب أبي حنيفة ، ويؤيدنا هذا الحديث، أخذته من «المرقاة».

Note 7

قوله

(٧)قوله: روي عن ابن عباس إلخ : كذا في «المرقاة».

Note 8

قوله

(۸) قوله : ثم كلها فإن جاء باغيها فأدها إليه : قال الحافظ واختلف العلماء فيما إذا تصرف في اللقطة بعد تعريفها سنة، ثم جاء صاحبها هل يضمنها له أم لا ؟ فالجمهور على وجوب الرد إن كانت العين موجودة أو البدل إن كانت استهلكت. وخالف في ذلك الكرابيسي صاحب الشافعي، ووافقه صاحباه البخاري وداود بن علي إمام الظاهرية لكن وافق داود الجمهور إذا كانت العين قائمة. ومن حجة الجمهور قوله في الرواية الآتية: ولتكن وديعة عندك»، وقوله أيضًا عند مسلم: فأعرف عفاصها ووكائها، ثم كلها، فإن جاء صاحبها فأدها إليه وأصرح من ذلك رواية أبي داود بلفظ: فإن جاء باغيها فأدها إليه وإلا فاعرف عفاصها ووكائها، ثم كلها، فإن جاء باغيها فأدها إليه فأمر بأدائها إليه قبل الإذن في أكلها وبعده، وهي أقوى حجة الجمهور. كذا في بذل المجهود».

Note 9

قوله

(٩)قوله: فأدها إليه: يعني فإن بين مدعيها علامتها حل الدفع، ولا يجب بلا حجة، هذا عندنا. وعند الشافعي يجب الدفع إن بين العلامة، أي لا يجب عندنا الدفع قضاء بلا بينة، وأما ديانة فيردها شرح الوقاية» و«العرف الشذي» ملتقط منهما، وقال في العناية»: ونحن نقول: الأمر في هذا الحديث وجب حمله للإباحة لأجل العمل بالحديث المشهور، وهو قوله : البينة على المدعي الحديث. فإنه لو لم يحمل على الإباحة وحمل الوجوب لزم التعارض المستلزم للترك.

Note 10

قوله

(۱۰) قوله: فاستنفقها إلخ: وفي هذه الجملة دلالة ظاهرة على أن اللقطة وديعة عند الملتقط، فالأمر بالاستنفاق على نفسه ما كانت على سبيل التمليك، بل لأنها كانت سبيلها التصدق، فإذا كان الملتقط محلا للصدقة فقيرا ذا حاجة أباحله التصدق على نفسه؛ لأن رسول الله له أمر بعد الإنفاق على نفسه إن جاء صاحبها بعد الإنفاق فأدها إليه أي إن كان موجودًا، وبالبدل إن كان مستهلكا. كذا في بذل المجهود».

Note 1

ف: واضح ہو کہ لقطہ کے ملنے پر اعلان کرنے کے بارے میں احادیث شریفہ میں مختلف مدتوں کا ذکر ہے۔ ایک حدیث میں ایک سال، ایک اور حدیث میں تین سال دوسری حدیث میں تین دن اعلان کرتے رہنے کا ذکر ہے۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ لقطہ ملنے پر اعلان کی کوئی مقررہ مدت نہیں بلکہ لقطہ اٹھانے والے کی رائے پر اس کا انحصار ہے، لقطہ اٹھانے والا اتنی مدت تک اعلان کرتا رہے یہاں تک کہ اس کو گمان غالب نہ آجائے کہ اب لقطہ کا مالک اس کو طلب نہیں کرے گا۔ شمس الائمہ سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے اور جامع المضمرات اور جوہرہ میں اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے۔ (یہ شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ اور لمعات سے ماخوذ ہے)۔