English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) passed by a date on the road and said: “Were it not that I fear it might be from charity, I would have eaten it.” [Agreed upon]
This indicates the permissibility of trivial items immediately.
In the agreed-upon narration: He was asked about stray sheep. He said, “It is for you, your brother, or the wolf.” He was asked about stray camels. He said, “What have you to do with it? It has its water and feet, drinks water, eats trees, until its owner finds it.”
Malik narrated in Al-Muwatta from Ibn Shihab: Stray camels in Umar ibn Al-Khattab’s time were left to multiply, untouched by anyone. In Uthman ibn Affan’s time, he ordered their announcement, then sale, and if the owner came, they were given the price. Muhammad narrated similarly in his Muwatta, saying “mursalah” instead of “mu’abbala.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٥١ - وَعَنْ أَنَسٍ(رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ قَالَ: «لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُوْنَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِيهِ إِبَاحَةُ الْمُحَقَّرَاتِ فِي الْحَالِ.1
وَأَيْضًا فِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذَّنْبِ» قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟2 قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِدَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا».
وَلِمَالِكِ فِي الْمُوَطَّأَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: قَالَ: كَانَتْ ضَوَالُ الْإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ إِبِلًا مُؤَبَّلَةً تَنَاتَجُ، لَا يَمَسُّهَا أَحَدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَمَرَ بِتَعْرِيفِهَا، ثُمَّ تُبَاعُ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا. وَرَوَى مُحَمَّد فِي مُوَطَّئِهِ نَحْوَهُ، وَقَالَ مُرْسَلَةٌ» بَدْلَ مُؤَبَّلَةً».
اردو
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک
مرتبہ) راستہ میں (پڑے ہوئے) ایک کھجور سے گزرے (اس کو دیکھ کر) آپ نے ارشاد فرمایا اگر
مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ وہ صدقہ کا ہے تو میں اس کو ضرور کھالیتا۔ اس کی روایت بخاری اور
مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی متفقہ روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ (ایک صحابی نے
رسول اللہ ﷺ سے) عرض کیا کہ گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے
فرمایا: وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا پھر وہ بھیڑیئے کی ہے (اس کا مطلب یہ ہے کہ بکری پکڑ
لے، نہ چھوڑے، اگر مالک آ جاوے تو اس کے حوالے کردے نہیں تو اپنے کام میں لاوے اگر چھوڑ
دے گا تو اندیشہ ہے کہ بھیڑیا اس کو پھاڑ ڈالے یا کوئی جانور اس کو ہلاک کردے، بہرحال مسلمان
کے مال کو ضائع نہ کرے۔)
(ان صحابی نے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا (ارشاد ہو) کہ گم شدہ
اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کو اس کی کیوں فکر ہے! اس کے
ساتھ اس کی مشک ہے (یعنی اس کے پیٹ میں پانی بھرا رہتا ہے اور وہ کئی دن تک پیاس کا متحمل
ہوسکتا ہے) اور اس کے ساتھ اس کے موزے ہیں (یعنی اس کے تلوے مضبوط ہیں کہ چلنے سے
گھستے نہیں) وہ پانی پینے کے لئے (کہیں بھی) پہنچ سکتا ہے اور درخت (کے پتوں) کو کھا سکتا
ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے۔
اور امام مالک نے موطا میں ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ گم شدہ اونٹ
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں آزادانہ چھٹے ہوئے رہتے تھے اس حالت میں
کہ ان کو بچے بھی ہوجاتے تھے اور ان کو کوئی نہیں پکڑتا تھا یہاں تک کہ جب امیر المومنین حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے حکم دیا کہ ان کا اعلان کیا جائے پھر ان کو بیچا جاتا پھر ان کا
مالک آتا تو اس کو ان کی قیمت دیدی جاتی۔
اور امام محمد نے اپنی موطا میں اسی طرح روایت کی ہے۔ اور ان کی روایت
میں ”مؤبلة“ کے بجائے ”مرسلة“ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2431 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1071a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) The statement: Immediately—In Al-Hidayah: If it is something the owner is unlikely to seek, like date pits or pomegranate peels, discarding it permits use without announcement, but it remains the owner’s property, as ownership from an unknown person is invalid.
Note 2
(2) The statement: Stray camels, etc.—Its apparent meaning is that stray camels should not be taken, as there is no fear of loss, as held by Shafi’i, Malik, and Ahmad for cows, camels, and horses, preferring leaving them. Our scholars and others said this was due to the prevalence of righteous people then. In our time, there is risk of dishonest hands, so taking it preserves it, making it preferable. Ibn Al-Humam elaborated on this. This is supported by Uthman’s practice, as times changed, ordering announcement after taking due to fear of betrayal, then sale, with the price held in the treasury for the owners. As stated in At-Ta’liq Al-Mumajjad.
Note 1
(۱)قوله: في الحال وقال في الهداية»: وإن كانت شيئًا يعلم أن صاحبها لا يطلبها كالنواة وقشور الرمان يكون إلقائه إباحة حتى جاز الانتفاع به من غير تعريف، ولكنه مبقى على ملك مالكه؛ لأن التمليك من المجهول لا يصح.
Note 2
(۲) قوله: فضالة الإبل إلخ فظاهره أن ضالة الإبل لا ينبغي أخذها؛ لعدم خوف ضياعها، وبه قال الشافعي ومالك وأحمد في البقر والإبل والفرس أن الترك أفضل. وقال أصحابنا وغيرهم كان ذلك إذ ذاك لغلبة أهل الصلاح. وفي زماننا لا يأمن وصول يد خائنة، ففي أخذه أحياؤها ، فهو أولى. وقد بسط الكلام فيه ابن الهمام. ويؤيد ما قال أصحابنا ما ثبت في زمان عثمان لانقلاب الزمان حيث أمر بتعريفها بعد التقطها خوفا من الخيانة، ثم بيعها وإمساك ثمنها في بيت المال لأربابها. كذا في التعليق الممجد».
Note 1
اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ معمولی چیزیں جو (راستہ میں) گری پڑی رہتی ہیں ان سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
Note 2
ف: واضح ہو کہ حدیث شریف میں گم شدہ اونٹوں کو نہ پکڑنے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ ان کے تلف ہونے کا خوف نہیں تھا چنانچہ امام شافعیؒ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ نے گم شدہ گائے، اونٹ اور گھوڑوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کو چھوڑے رکھنا افضل ہے، ہمارے ائمہ احناف اور دوسرے فقہاء نے کہا ہے کہ یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جبکہ لوگوں کی کثرت تھی اور خیانت کا ذمن نہ تھا اور اس زمانہ میں خیانت کا ذمن عام ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں ان جانوروں کا پکڑ رکھنا ان کی حفاظت ہے اور یہی بہتر ہے۔ امام ابن الہمامؒ نے اس مسئلہ میں کافی بحث کی ہے اور ہمارے فقہاء کی رائے کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایسے جانوروں کو پکڑ لینے کا حکم اور ان کا اعلان انقلاب زمانہ کی وجہ سے تھا کہ لوگ خیانت نہ کر بیٹھیں پھر آپ ان کو بکوا دیتے اور ان کی قیمت کو مالکین کے لئے بیت المال میں محفوظ کروا دیتے تھے۔ (تعلیق ممجد سے ماخوذ ہے)۔