اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے کسی کو یہ جائز نہیں کہ (بلاضرورت) مکہ معظمہ میں
ہتھیار باندھ کر داخل ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور بخاری کی ایک روایت میں براء رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے وہ
فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (عمرۃ القضاء کے موقع پر) ذوالقعدہ میں عمرہ
ادا فرمایا (اور ہتھیار کے ساتھ) مکہ معظمہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرمایا تو) اہل مکہ نے اس طرح
داخلہ سے منع فرمایا۔ پھر یہ طے ہوا کہ ہتھیار کے ساتھ داخل ہوسکتے ہیں، مگر یہ کہ ہتھیار بند رہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1356 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1844 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "It is not lawful to carry weapons"—This prohibition applies unless there is a need, as evidenced by the Prophet’s (ﷺ) entry during the Treaty of Hudaybiyyah and the Conquest of Makkah with arms. This is the view of the majority, including Shafi‘i. This is mentioned in (Al-Mirqah).
Note 1
(۱)قوله: لا يحل لأحدكم أن يحل السلاح بمكة: قال النووي: هذا النهي إذا لم تكن حاجة، فإن كانت جاز هذا مذهبنا ومذهب جماهير العلماء وحجة الجمهور دخول النبي ﷺ عام عمرة القضاء بما شرطه من السلاح في القراب، ودخوله عام الفتح متأهبا للقتال. كذا في «المرقاة».