اردو
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: جو کوئی اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کو جنت کی
وراثت (یعنی نعمتوں) سے محروم فرما دیں گے۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور بیہقی نے اس کی روایت شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کی
ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2703 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3078 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 3078
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں جنت کی وراثت کا جو ذکر ہے وہ سورۃ زخرف، پ:25، ع:7، آیت نمبر:72) میں ارشاد ہے: ”وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ“ اور جنت کی میراث جو تم کو ملی ہے ان (نیک اعمال) کے بدلے میں (ملی) ہے جو تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔ اور قرآن مجید کی کئی آیتوں میں مذکور ہے، مثلاً سورۃ اعراف، پ:8، ع:5، آیت نمبر:43، میں ارشاد ہے: ”وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ“ اور (اہل جنت سے) پکارا کر کہا جائے گا یہی جنت ہے جس کے تم (نیک) اعمال کی بدولت وارث قرار دیئے گئے ہو جن کو تم (دنیا میں) کرتے تھے۔ اور سورہ مریم، پ:16، ع:4، آیت نمبر:63، میں ارشاد ہے: ”تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا“، یہی وہ جنت ہے کہ ہمارے بندوں میں سے جو پرہیزگار ہوگا ہم اسے اس کا وارث بنائیں گے۔ اور سورہ مومنون، پ:18، ع:1، آیت نمبر:11، میں ارشاد ہے: ”أُولٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ . الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ، هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ“۔ یہی لوگ (حضرت آدم کے اصلی) وارث ہیں جو بہشت بریں کی میراث پائیں گے اور وہ اس میں ہمیشہ، ہمیشہ رہیں گے۔ ان آیات کریمہ سے مومن کا وارث جنت ہونا ثابت ہے مگر کوئی شخص اپنے وارثوں کو ان کی وراثت سے محروم کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی نعمتوں سے محروم فرما دیں گے جو اس کو وراثت میں ملنے والی تھیں 12۔ (حاشیہ مشکوٰۃ12)