Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 318

(یہ باب ان چیزوں کے بیان میں ہے جن سے وضوء کرنا واجب ہوتا ہے)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(یہ باب ان چیزوں کے بیان میں ہے جن سے وضوء کرنا واجب ہوتا ہے)

Zujajat al-Masabih 318Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 349
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آدمی وضوء کرلینے کے بعد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگادے تو (کیا وضوء ٹوٹ جاتا ہے؟) اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ بھی آدمی کے جسم کا ایک حصہ ہے (یعنی اس کو ہاتھ لگ جانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، جیسے اور عضو کو ہاتھ لگ جانے سے وضوء نہیں جاتا) (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور امام محمد نے اپنی موطا میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 182 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 85 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 165 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 319 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 319

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور ترمذی نے صراحت کی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان تمام حدیثوں میں جو اس مسئلہ کے متعلق سے بیان کی گئی ہیں، ان سب میں زیادہ صحیح ہے۔ اور طحاوی کی روایت بھی اسی طرح ہے اور طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند نہایت مستقیم ہے، جس کے اسناد اور متن دونوں میں کسی قسم کا اضطراب نہیں ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے ابن مدینی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس کی سند میں ملازم بن عمرو ہیں، بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث (جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا ٹوٹنا ثابت ہوتا ہے) سے زیادہ قوی ہے۔ امام محی السنۃ وغیرہ کا یہ قول ہے کہ بُسرہ کی حدیث منسوخ ہے اور انہوں نے منسوخ ہونے کی یہ وجہ بتلائی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ ہجرت کے پہلے سال آئے ہیں اور حدیث بُسرہ کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا ہے اس وجہ سے طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جو اسلام لانے میں پہلے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو اسلام لانے میں بعد ہیں منسوخ قرار پاتی ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ناسخ ہوتی ہے۔ امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا باقی رہنا ثابت ہوتا ہے، اس وقت منسوخ قرار پاتی جبکہ طلق رضی اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے قبل وفات پاتے یا اس بات کا ثبوت مل جاتا کہ وہ اپنے وطن واپس گئے جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا موقع ان کو پھر حاصل نہ ہوسکا اور طلق رضی اللہ عنہ کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام سے قبل وفات پا جانا یا وطن واپس ہو کر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو نہ پانا، ان دونوں باتوں کو طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو منسوخ ماننے والے ثابت نہیں کر سکتے اور یہ کس طرح ثابت کر سکتے ہیں کہ خود انہوں نے طلق رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف حدیث ”مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ“ (جس نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تو وہ وضو کرلے) کی روایت کی ہے اور یہ قول بھی ان ہی کا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ناسخ و منسوخ کو سنا ہے تو ظاہر ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کا وفات پانا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا نہ ملنا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔ علاوہ بریں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے اس لئے کہ ان کی سند میں یزید بن عبدالملک ہیں جو ضعیف ہیں اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس دلیل کی وجہ سے مرجح ہے جس کو ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے صدر میں نقل کیا گیا ہے اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے بھی مرجح ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ مرد ہیں اور بُسرہ رضی اللہ عنہا عورت ہیں، اور مردوں کی حدیث قوی تر ہوتی ہے کہ وہ زیادہ حافظ اور ضابط ہوتے ہیں، اسی وجہ سے دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے مساوی قرار دی گئی ہے، نیز ناقض وضو کا حکم خاص و عام سے متعلق ہے بُسرہ رضی اللہ عنہا پر وضو ٹوٹنے کا حکم تو ظاہر ہو جائے اور ان حضرات سے پوشیدہ رہے جن کا ذکر ذیل میں آتا ہے۔ چنانچہ حضرت علی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود، ابن عباس، حذیفہ بن یمان، عمران بن حصین، ابوالدرداء اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نزدیک شرمگاہ کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا ان حضرات سے اس مسئلہ کا حکم باوجود یہ کہ اس کی ان کو زیادہ ضرورت ہے پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور صرف بُسرہ رضی اللہ عنہا پر ظاہر ہونا کہ جس حکم کی ان کو ضرورت نہیں قیاس کے خلاف ہے، پس حدیث بُسرہ رضی اللہ عنہا میں کئی وجوہ سے انقطاع باطن ہے، یہ تمام تفصیل محلی میں مذکور ہے۔