English
An-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The halal is clear, and the haram is clear. Between them are doubtful matters that many people do not know. Whoever avoids doubtful matters safeguards his religion and honor. But whoever indulges in doubtful matters falls into haram, like a shepherd grazing near a restricted zone—soon he will enter it. Every king has a restricted zone, and Allah’s restricted zone on His earth is His prohibitions. Indeed, in the body is a piece of flesh; if it is sound, the whole body is sound, and if it is corrupt, the whole body is corrupt. Indeed, it is the heart."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢١٢ - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا1 مُشْتَبِهَاتٌ، لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الْمُشْتَبِهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيْهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمّى ، أَلَا إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3813
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حلال چیزیں بھی ظاہر ہیں اور حرام چیزیں بھی ظاہر ہیں
اور ان دونوں کے درمیان میں چند مشتبہ چیزیں بھی ہیں۔ (جو حلال اور حرام دونوں سے میل رکھتی
ہیں) ان کو اکثر لوگ (صلاحیت کی کمی کی وجہ سے) نہیں جانتے ہیں تو جو شخص ایسی مشتبہ چیزوں سے
دور رہا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا (کہ اس کی دینداری بھی کامل رہی اور لوگوں کی
طعنہ زنی سے بھی بچ رہا) لیکن جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوگیا تو وہ بالآخر حرام میں گرفتار
ہو جائے گا (اس کی مثال ایک) چرواہے جیسی ہے جو (اپنے جانوروں کو) کھیت کی باڑ کے پاس
چراتا ہو تو ہمیشہ یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ (اس کا کوئی جانور) کھیت میں چلا جائے، یاد رکھو کہ ہر
بادشاہ (کی مملکت) کے کچھ حدود ہوتے ہیں اور سن لو! کہ اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محارم ہیں
(یعنی وہ چیزیں جو حرام ہیں اور جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو روکا ہے مثلاً قتل ناحق،
شراب، حرام کاری، سود، جوا، چوری، زنا، دغا بازی اور جھوٹ وغیرہ) اور یہ بھی یاد رکھو کہ انسان کے
جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب تک وہ ٹھیک رہتا ہے سارا بدن ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ
خراب ہو جاتا ہے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے اور وہ ہے ”دل“!۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 52 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1599a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2760 (unverified) 96% confidence
Mishkat (candidate) 2760
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Between them are doubtful matters" – This ruling is based on precaution. However, the default principle in Islamic law is permissibility (ibahah), the view of the majority of Hanafis and Shafi'is. Evidence for this is found in Musallam Ath-Thubut and At-Tawdih. Scholars differ on doubtful matters: some say they are prohibited (rejected), others say they require abstention (similar to pre-revelation rulings). The permissibility principle is established by Quranic texts, hadiths, and scholarly consensus, as elaborated in Rad Al-Muhtar. (Tansiq An-Nizam)
Note 1
(۱) قوله : وبينهما مشتبهات : اعلم أن هذا الحكم بناءً على الأخذ بالتقوى والأحوط، وإلا فقد ثبت بالأدلة الشرعية أن الأصل في الأشياء الإباحة، وهو مذهب جمهور الحنفية والشافعية، كما في مسلم الثبوت وقد استدل عليه في التوضيح، وتمسك بها في «التوضيح» و «التلويح» في عدة مواضع ، نقل القسطلاني عن «فتح الباري»، واختلف في حكم المشتبهات، فقيل: التحريم وهو مردود، وقيل : الوقف، وهو كالخلاف فيما قبل الشرع، انتهى. وقد أثبت أصل الإباحة الشيخ عبد الحق وعلي القاري في شرح المشكاة وجمهور الأصولين والفقهاء وشراح الحديث من النصوص القرآنية والأخبار والآثار الكثيرة، وحقق الإباحة العلامة الشامي في «رد المحتار» شرح «الدر المختار». كذا في تنسيق النظام في مسند الإمام.
Note 1
ف (1) اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ: خبردار! کہ اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محرمات ہیں۔ اس کی توضیح میں شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے حوالہ سے اشعۃ اللمعات، میں لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں اعمال کے مراتب کی ایک ترتیب اس طرح قائم فرمائی ہے: (1) ضروری (2) مباح، (3) مکروہ، (4) حرام، (5) کفر۔ اگر انسان اپنی روزی کے سلسلہ میں ضرورت پر اکتفا اور قناعت کرلے تو وہ مباحات میں نہیں پڑتا جن کے بعد مکروہات کا درجہ ہے، اور اس طرح محرمات کے حدود میں داخل ہونے سے بچ جاتا ہے جن کی حدیں مکروہات سے ملتی ہیں اور اگر وہ حرص اور لالچ میں آکر مکروہات میں گرفتار ہو جائے تو محرمات میں مبتلا ہو جائے گا جس کے بعد کفر کا درجہ ہے اللہ تعالیٰ! ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ حضرت شاہ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے اس بیان کے بعد فرمایا ہے کہ میں نے مومن کے ترقی درجات کیلئے یہ ترتیب قائم کی ہے۔ فرض1، واجب2، سنت3، مستحب4، آداب5 اگر کوئی شخص مستحبات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ آداب کی پابندی کرے اور اگر سنت کی حفاظت مطلوب ہے تو مستحبات کو ترک نہ کرے۔ اسی طرح واجبات کی حفاظت کے لئے سنت کی پابندی کرے اور فرائض پر استقامت کے لئے واجبات کو نہ چھوڑے۔ اس طرح وہ درجۂ کمال کو پہنچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ ف (2) حدیث شریف کے آخری حصہ میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ دل کی بھلائی پر سارے بدن کی بھلائی کا انحصار ہے۔ اس بارے میں حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرمایا ہے کہ جسم کی بھلائی اس بات میں ہے کہ جسم کو حلال غذا پہنچائی جائے جس سے دل کو صالح خون ملتا ہے اور دل صاف اور منور ہو جاتا ہے اور دل کی نورانیت سارے اعضاء بدن پر پڑتی ہے اور جسم سے اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف لقمۂ حرام اگر پیٹ میں جائے تو اس سے فاسد خون پیدا ہوتا ہے اور دل مکدر اور تاریک ہو جاتا ہے اور دل کی ظلمت کا اثر سارے اعضاء بدن پر پڑتا ہے۔ آنکھ نامحرم پر پڑتی ہے کان غیبت سے لطف اٹھاتے ہیں اور زبان افتراء اور جھوٹ پر چلتی ہے اور ہاتھ پاؤں برے کاموں کی طرف بڑھتے ہیں اور انسان شیطان کا آلۂ کار بن جاتا ہے نہ اس کو موت کی فکر ہوتی ہے نہ قیامت کا ڈر ہے۔ صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حدیث اپنے مضامین کے اعتبار سے ان تین احادیث میں شمار ہوتی ہے جن پر اسلام کا مدار ہے۔ ایک حدیث تو وہ ہے جس میں نیت کی اہمیت کا ذکر ہے : ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ دوسری حدیث میں : ”مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ“۔ (یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضولیات سے بچتا رہے) اور تیسرے صدر کی یہ حدیث ہے جس میں حلال اور حرام کی اہمیت واضح فرمائی گئی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان احادیث شریفہ پر عمل کرتے رہیں اور مشتبہات سے بچتے رہیں تاکہ آخرت کی سرخروئی حاصل کرسکیں۔