English
Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (may Allah be pleased with him) ruled the compensation for a hunting dog as forty dirhams. [Narrated by Bukhari in his Tarikh, Sa'id ibn Mansur, and Bayhaqi]
Another version adds: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of dogs, earnings of prostitutes, and payments to fortune-tellers."
Bukhari's version states: "The Prophet (ﷺ) prohibited the price of blood, price of dogs, earnings from prostitution, cursed the one who consumes interest and the one who pays it, the tattooist and the tattooed, and image-makers."
Sharh as-Sunnah adds: "The Prophet (ﷺ) prohibited earnings from musical instruments."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٢٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما) أَنَّهُ قَضَى فِي كَلْبِ الصَّيْدِ أَرْبَعِيْنَ دِرْهَمًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَالْبَيْهَقِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَسْتَاسٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانِ فِي الثَّقَاتِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ نَهَى1 عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ2 الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الكاهن».
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ ثَمَنِ3 الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغْيِ، وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ4. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ»: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ نَهَى عَنْ كَسْبِ الزَّمَّارَةِ.
اردو
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے شکاری
کتے (کی قیمت کے معاوضہ) میں چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا۔
اس کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں کی ہے اور سعید بن منصور اور بیہقی نے بھی اس
کی روایت کی ہے۔
اور سعید بن منصور اور بیہقی دونوں کی ایک اور روایت میں ہے۔
کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زنا کی کمائی اور کاہن (آئندہ کی باتوں کا بتانے والا)
کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔
اور بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خون کی
قیمت (یعنی اس کی خرید و فروخت) کتے کی قیمت زناکار عورت کی کمائی سے منع فرمایا ہے
اور حضور ﷺ نے سود کے لینے والے، سود کے دینے والے اور جسم گودنے والی عورت اور گدوانے
والی عورت اور تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
اور شرح السنہ میں یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مغنیہ یعنی گانے کا
پیشہ کرنے والی عورت کی کمائی سے بھی منع فرمایا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2238 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2237 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) "Prohibited the price of dogs" - This is a discouragement, not strict prohibition, due to the lowly nature of such trade. [Al-Mirqat] (2) "Earnings of prostitutes and fortune-tellers" - These are among the foulest earnings, including tattoos and conditional payments to singers. [Ad-Durr al-Mukhtar] (3) "Price of blood" - Selling blood is prohibited as it is impure. Some interpret this as discouraging payments to bloodletters. [Al-Mirqat] (4) "Image-makers" - This refers specifically to images of living creatures, as idols were made in such forms. [Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله : نهى عن ثمن الكلب النهي عنه تنزيهي فهو مكروه لا حرام عندنا لدناءته، أخذته من «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: مهر البغي وحلوان الكاهن : أي ما خبث من المكاسب، فلزم منه العار ما يأخذه كاهن وواشمة والمغنية على الغناء، ومهر البغي وأجر الحجام بشرط، الدر المختار و رد المحتار» ملتقط منهما.
Note 3
(۳) قوله : نهى عن ثمن الدم في شرح السنة: بيع الدم لا يجوز؛ لأنه نجس، وحمل بعضهم نهيه عن ثمن الدم على أجر الحجام، وجعله نهي تنزيه. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: المصور : أراد به الذي يصور صورة الحيوان دون من يصور صورة الأشجار والنبات؛ لأن الأصنام التي كانت تعبد كانت على صور الحيوانات. كذا في «المرقاة».
Note 1
اس حدیث کے راویوں میں اسماعیل ہیں جو جساس کے بیٹے ہیں جن کو ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔
Note 2
ف(1) واضح ہو کہ جن احادیث شریفہ میں کتوں کی قیمت لینے سے منع فرمایا گیا ہے یہ غیر شکاری کتے ہیں چنانچہ شکاری کتوں کی خرید و فروخت کے جواز کے بارے میں صدر میں کئی احادیث بیان کی گئی ہیں جیسا کہ ابو جعفر اتقی میں مذکور ہے اور ”تنسیق النظام فی مسند الامام“ میں لکھا ہے کہ کتوں کی قیمت کی ممانعت اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے عام طور پر کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب شکاری کتوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور کتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت مل گئی۔ یہ شرح معانی الآثار میں مذکور ہے۔ ف(2) حدیث شریف میں مصور پر لعنت کا جو ذکر ہے اس سے وہ مصور مراد ہے جو جاندار کی تصویر اتارے البتہ درخت اور نباتات کی تصویر اتارنے والے سے یہ لعنت متعلق نہ ہوگی، جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔