العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
وَقَالَ صَاحِبُ الْمِشْكَاةِ»: قَالَ التَّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ الطَّيْبِيُّ : هَذَا كَلَامُ لَا يَصِحُ بِحَالٍ؛ لِأَنَّ فِي الصَّحِيحَيْنِ سَمَاعَ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ لا أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُحْصَى، فَإِنَّهُ كَانَ تِلْمِيذُهَا انْتَهَى.
وَأَيْضًا قَالَ صَاحِبُ الْمِشْكَاةِ»: لَا يَصِحُ إِسْنَادُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسَلٌ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ عَائِشَةَ ، لَكِنْ لَا بَأْسَ بِهِ؛ لِأَنَّ الْمُرْسَلَ حُجَّةٌ عِنْدَنَا وَعِنْدَ الْجُمْهُورِ. وَرَوَى الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ مِثْلَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 179 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 86 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 502 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 170 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
صاحب مشکوٰۃ نے کہا کہ ترمذی کا یہ قول ہے کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک عروہ رضی اللہ عنہ کا ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث کی روایت کرنا صحیح نہیں ہے۔ علامہ طیبی نے اس کا جواب دیا ہے کہ عروہ رضی اللہ عنہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نہ کرنا کس طرح صحیح نہیں ہے، کیونکہ بخاری اور مسلم میں عروہ رضی اللہ عنہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کثرت کے ساتھ ثابت ہے، اس لئے عروہ رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شاگرد تھے۔ صاحب مشکوٰۃ نے یہ بھی کہا ہے کہ ابراہیم تیمی کی سند عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے درست نہیں، اور ابوداؤد نے بھی اسی کی تائید میں کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور ابراہیم تیمی نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نہیں سنا اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے کوئی حرج نہیں واقع ہوتا کیونکہ مرسل نہ صرف ہمارے پاس بلکہ جمہور کے پاس حجت ہے، اور بزار نے اپنی سند میں اسناد حسن کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے۔