اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3863
علقمہ بن ابی وقاص لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت طلحہ
بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کچھ مال
خریدا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ کو اس میں نقصان ہوا ہے (اور آپ نے مال
کو ارزاں بیچ دیا ہے) اور وہ مال کوفہ میں تھا لیکن (بوجہ خرید و فروخت کے مکمل ہونے کے) وہ اس
وقت آل طلحہ کا مال تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے خیار کا حق ملنا چاہئے اس لئے کہ
میں نے مال کو (دیکھے بغیر) بیچا ہے اور حضرت طلحہؓ نے فرمایا خیار کا حق مجھے ملنا چاہئے اس لئے مال
میں نے خریدا ہے اور میں نے اس کو دیکھا نہیں ہے (اس لئے مجھے خیارِ رؤیت کا حق ہے معاملہ کی
یکسوئی کے لئے) دونوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو حکم بنایا تو حضرت جبیر نے فیصلہ دیا
کہ خیار (رؤیت) کا حق حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خیار کا حق نہیں
ہے۔ اس کی روایت امام طحاوی اور بیہقی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement "he ruled": This occurred in the presence of Companions without objection, constituting silent consensus (Fath al-Qadir).
Note 2
(2) The statement "the option was Talhah’s": Al-Hidayah states that a buyer of an unseen item has the option, but the seller does not.
Note 1
(۱) قوله : فقضى إلخ وكان حكم جبير بن مطعم بين عثمان وطلحة له بمحضر من الصحابة ولم ينكره أحد، فكان إجماعا سكوتيا، «فتح القدير» ملخصا.
Note 2
(۲) قوله : إن الخيار لطلحة ولا خيار لعثمان: لذلك قال في الهداية»: ومن اشترى شيئًا لم يره، فالبيع جائز وله الخيار إذا رآه، إن شاء أخذه وإن شاء رده، ومن باع ما لم يره فلا خيار له.
Note 1
ف: ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر خریدار کسی چیز کو بغیر دیکھے خرید لے تو ایسی بیع جائز ہے اور خریدار کو اس بات کا حق ہے کہ دیکھنے کے بعد طے شدہ پوری قیمت دے کر اس چیز کو لے لے یا بیع کو فسخ کر دے اور بیچنے والے کو بغیر دیکھے بیچنے کی صورت میں خیار کا حق نہیں ہے۔ اور فتح القدیر میں یہ صراحت موجود ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہما کے درمیان خیار کا حق حضرت طلحہ کو دیا اور آپ کا یہ فیصلہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے روبرو ہوا اور آپ نے خیار رؤیت کا حق خریدار کو دیا نہ کہ بائع کو اور اس پر کسی صحابی نے انکار نہیں فرمایا۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ خیار رؤیت کا حق خریدار کو ہے نہ کہ بائع کو اور اس پر اجماع صحابہ ہے۔