English
Abdullah ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us 1 the tashahhud in prayer and the tashahhud for a need. He said: The tashahhud in prayer is: "All compliments, prayers, and pure words are for Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah’s righteous servants. I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger." The tashahhud for a need is: "All praise is for Allah; we seek His help and forgiveness, and we seek refuge in Allah from the evils of our souls and the wrongs of our deeds. Whoever Allah guides, none can misguide, and whoever He misguides, none can guide. I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger." And he recites three verses: O you who have believed, fear Allah as He should be feared and do not die except as Muslims [Al-Imran: 102], And fear Allah, through whom you ask one another, and the wombs. Indeed, Allah is ever, over you, an Observer [An-Nisa: 1], O you who have believed, fear Allah and speak words of appropriate justice. He will amend for you your deeds and forgive you your sins. And whoever obeys Allah and His Messenger has certainly attained a great attainment [Al-Ahzab: 70-71]. Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, An-Nasa’i, Ibn Majah, and Ad-Darimi. In "Jami‘ Tirmidhi," Sufyan ath-Thawri explained the three verses. Ibn Majah added after "All praise is for Allah": "We praise Him," and after "from the evils of our souls and the wrongs of our deeds," and Ad-Darimi after "great attainment": "Then he completes with his need." In "Sharh as-Sunnah," from Ibn Mas‘ud regarding the sermon for a need in marriage and other matters.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٥٠ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: عَلَّمَنَا1 رَسُولُ اللَّهِ ﷺ التَّشَهُدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهدَ فِي الْحَاجَةِ ، قَالَ : التَّشَهُدُ فِي الصَّلَاةِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. وَالتَّشَهُدُ فِي الْحَاجَةِ: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ: {يَئَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴾(آل عمران : ۱۰۲){وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}(النساء: 1 يَئَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمٰلَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴾(الأحزاب: ۷۰-۷۱). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ.
وَفِي جَامِعِ التَّرْمِذِيَّ» فَسَّرَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزَادَ ابْنُ مَاجَهِ بَعْدَ قَوْلِهِ: أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ : نَحْمَدُهُ، وَبَعْدَ قَوْلِهِ:مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، وَالدَّارِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: عَظِيمًا ثُمَّ يَتَكَمَّلُ بِحَاجَتِهِ، وَرَوَى فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ مِنَ النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ.
اردو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نماز کا تشہد اور حاجت کا تشہد سکھایا۔ (حضرت ابن مسعود نے)
فرمایا کہ نماز میں تشہد یہ ہے۔
زبان جسم و جان اور مال کی تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اے نبی (ﷺ) آپ پر
سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر میں
گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ بیشک حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اور حاجت (یعنی نکاح اور دیگر معاملات) کا تشہد یہ ہے:
کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں۔ ہم (سارے کاموں میں مدد) اسی سے مانگتے
ہیں اور (عبادتوں میں کوتاہی اور طاعتوں میں تاخیر کی) اسی سے مغفرت چاہتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ
کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اس کا کوئی گمراہ
کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کرے تو اس کا کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں
کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس
کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
پھر یہ تین آیتیں پڑھا کریں:
مُّسْلِمُوْنَ“ (سورہ آل عمران، پ:4، ع:10، آیت نمبر:102)
اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم اسلام کی حالت پر
ہی مرو۔
كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا“ (سورہ نساء، پ:4، ع:1، آیت نمبر:1)
اے ایمان والو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس (کے نام پاک) کا واسطہ دے کے تم آپس
میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو اور قرابت داروں (کے حقوق ضائع کرنے
سے بھی) بچو بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہاری ہر ہر حالت کی خبر ہے۔
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت اور اس کے برے انجام سے ڈرتے رہو اور
سیدھی بات کہا کرو (اس سے) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سنوار دے گا (تمہیں نیکیوں کی توفیق دے گا اور
انکو قبول کرے گا) اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ (سورہ احزاب، پ:22، ع:9، آیت
نمبر:71)
اور جو شخص (احکام پر چل کر اور برائیوں سے بچ کر) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت
کرے گا۔ وہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔
اور ابن ماجہ نے ”ان الحمد لله“ کے بعد ”نحمده“ کا اضافہ اور ”
من شرور“ کے بعد ”سيئات اعمالنا“ کا اضافہ۔
اور دارمی نے ”فَقَدْ فَازَ فَوْزًا“ کے بعد یہ روایت کی ہے کہ (اگر خطبۂ
نکاح ہو تو ایجاب و قبول کروائے) پھر اپنی حاجت بیان کرے۔
اور شرح السنہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اتنا زیادہ کیا ہے کہ نکاح
اور غیر نکاح میں اسی خطبہ کو پڑھتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1105 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1892 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2119 (unverified) 90% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 3278 (unverified) 85% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3149 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 3149
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "He taught us, etc.": This Hadith of Ibn Mas‘ud is used as evidence for the legitimacy of the sermon at the marriage contract and for every need. Tirmidhi said in his "Sunan": Scholars said marriage is permissible without a sermon, which is the opinion of Sufyan ath-Thawri and others among the scholars. This is supported by the Hadith of Ismail ibn Ibrahim, coming later. Thus, the sermon in marriage is recommended, as in "Nayl al-Awtar" and "Ad-Durr al-Mukhtar."
Note 1
(۱) قوله: علمنا رسول الله إلخ : وقد استدل بحديث ابن مسعود هذا على مشروعية الخطبة عند عقد النكاح، وعند كل حاجة، قال الترمذي في سننه : وقد قال أهل العلم: إن النكاح جائز بغير خطبة، وهو قول سفيان الثوري وغيره من أهل العلم، انتهى. ويدل على الجواز حديث إسماعيل بن إبراهيم الآتي، فيكون على هذا الخطبة في النكاحمندوبة. كذا في نيل الأوطار» و«الدر المختار».
Note 1
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں ایسی ہی مکتوب ہے حالانکہ قرآن میں یہ آیت: ”يٰأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ“ (الیٰ آخرہ) سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن قاریٔ خطبۂ نکاح میں اس آیت کو قرآنِ متواتر کے مطابق پڑھے جس کی ابتداء یوں ہے: ”يٰأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَّنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا“۔ (سورۂ نساء، پ:4، ع:1، آیت نمبر:1) اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو! جس نے تم کو اکیلی جان (حضرت آدم سے) پیدا کیا اور (اسی طرح پر کہ پہلے) ان سے ان کی بی بی (حضرت حوّاء) کو پیدا اور ان دو (میاں بیوی) سے بہت سے مرد اور عورت (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ جس کا واسطہ دلا کر تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو اور قرابت داروں (کے حقوق ضائع کرنے سے بھی) بچتے رہو۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات) اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے اور جامع ترمذی میں سفیان ثوری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ نے ان تینوں آیتوں کو بیان فرمایا ہے۔