English
العربية
Typed, pending editorial approval
اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے
بیع الحصاۃ اور بیع الغرر سے منع فرمایا ہے (یہ دونوں قسم کی بیع زمانہ جاہلیت میں رائج تھیں، بیع الحصاۃ
یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے سے یہ کہے کہ جب میں تیرے مال پر کنکری پھینکوں تو بیع پختہ ہو جائے
گی یا بیچنے والا خریدار سے یوں کہے کہ جس چیز پر تیری کنکری پڑے وہ تیرے ہاتھ بیع ہے یا تیری
کنکری جتنی دور زمین پر جائے وہ تیرے ہاتھ فروخت ہے اور بیع غرر یہ ہے کہ چیز نہ تو قبضہ میں ہو
اور نہ اس پر قدرت حاصل ہو اور اس کو فروخت کر دیا جائے جیسے دریا کی مچھلیاں اور ہوا میں اڑنے
والے پرندے یا بھاگا ہوا غلام وغیرہ)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابوداؤد کی ایک اور روایت میں امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بیع المضطر اور بیع الغرر سے منع فرمایا ہے (بیع الغرر کی تعریف
حدیث نمبر119/3789 میں گزر چکی ہے اور بیع مضطر یہ ہے کہ کوئی شخص) جبر اور تنگ کر کے کسی
کی چیز خریدے یا ضرورت مند مجبور ہو کر کوئی چیز بیچنا چاہے اور خریدار سستے داموں خرید لے
۔(ایسی صورت میں بیچنے والے کی مدد کرنی چاہئے نہ کہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھائے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1513 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: "Hasah sales" – This refers to throwing a pebble onto goods, with whichever item it lands on becoming the sale, without inspection.
Note 2
(2) The statement: "exploiting the distressed" – This includes coercive sales or exploiting someone’s desperation to buy/sell at unfair prices. Scholars debated whether such sales are invalid or merely discouraged.
Note 1
(۱) قوله: بيع الحصاة أي إلقاء الحجر هو أن يلقى حصاة وثمة أثواب، فأي ثوب وقع عليه كان المبيع بلا تأمل ورؤية، ولا خيار بعد ذلك، ولا بد أن يسبق تراوضهما على الثمن. كذا في فتح القدير».
Note 2
(۲)قوله: بيع المضطر : قال في النهاية»: هذا يكون من وجهين، أحدهما: أن يضطر إلى العقد من طريق الإكراه عليه، وهذا بيع فاسد لا ينعقد. والثاني: أن يضطر إلى البيع لدين ركبه أو مؤونة ترهقه فيبيع ما في يديه بالوكس لا ضرورة، وهذا سبيله في حق الدين والمروءة أن لا يبايع على هذا الوجه، ولكن يعار ويقرض إلى الميسر أو يشتري إلى الميسرة أو يشتري السلعة بقيمتها، فإن عقد البيع مع الضرورة على هذا الوجه صح مع كراهة أهل العلم له، ومعنى البيع ههنا الشراء أو المبايعة أو قبول البيع. قال ابن الملك : والمراد بالمكره المكره بالباطل، وأما المكره بحق فلا، كمن أكره عليه القاضي بوفاء دين ونحوه ببيع شيء من ماله. قاله في المرقاة». وقال في الدر المختار»: وفي «النتف»: بيع المضطر وشراءه فاسد، قال الشامي : هو أن يضطر الرجل إلى طعام أو شراب أو غيرها، ولا يبيعه البائع إلا بأكثر من ثمنها بكثير، وكذلك في الشراء منه. كذا في المنح»، وفيه لف نشر غير مرتب؛ لأن قوله : وكذا في الشراء منه» مثال لبيع المضطر، أي بأن اضطر إلى بيع شيء ما له ولم يرض المشتري إلا بشرائه بدون ثمن المثل بغبن فاحش.