Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3292a

(مہر کا بیان)

In this book

Current reading

Marriage

(مہر کا بیان)

Zujajat al-Masabih 3292aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4368
شعبی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا خبردار عورتوں کے مہر میں غلو نہ کرو (یعنی بڑے بڑے مہر نہ مقرر کرو) سن لو! جس کسی کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملے کہ اس نے اس مقدار سے زیادہ مہر مقرر کیا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر کیا تھا یا کسی کو زیادہ مال دیا گیا ہو تو اس زائد مقدار کو میں بیت المال میں داخل کر دوں گا پھر آپ نے منبر سے اتر گئے۔ ایک قریشی عورت آپ کے روبرو حاضر ہوئی اور کہا امیر المؤمنین! اللہ کی کتاب پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول؟ آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ کی کتاب! واقعہ کیا ہے؟ اس عورت نے کہا آپ نے ابھی منبر پر لوگوں کو منع فرمایا کہ عورتوں کے مہر مقرر کرنے میں غلو نہ کرو اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔ نمبر:20) (اور تم نے اپنی کسی بیوی کو مال کثیر دیا ہو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو) یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ رکھتا ہے۔ آپ نے یہ بات دو بار یا تین بار فرمائی پھر آپ منبر پر لوٹ آئے اور لوگوں سے فرمایا میں نے ابھی تم کو عورتوں کے مہر مقرر کرنے میں غلو (اور زیادتی) سے روکا ہے۔ ہر شخص اپنے مال میں اپنی پسند کے مطابق کام کرے۔ اس کی روایت بیہقی نے سنن میں کی ہے اور سعید بن منصور نے بھی اس کی روایت کی ہے۔