اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4382
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک
انصاری جن کی کنیت ابو شعیب تھی اپنے غلام سے جو گوشت بیچا کرتا تھا فرمایا کہ تم میرے لئے کھانا
تیار کرو جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو جائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دینا
چاہتا ہوں ان پانچوں میں ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں گے۔ تو اس نے تھوڑا سا کھانا
تیار کیا پھر وہ (انصاری) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعوت میں
لے جانے لگے تو ان کے ساتھ ایک آدمی بھی چلنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو
شعیب! ایک آدمی (بلا دعوت) ہمارے ساتھ چلا آیا ہے اگر تم چاہو تو اس کو لے چلو اور کھانا کھلاؤ
اور چاہو تو اس کو واپس کر دو، ابو شعیب نے کہا نہیں! بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں (یہ بھی چلے اور
کھانا کھا آئے)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2081 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2036a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “I permit him”: It indicates that no one may join a people’s hospitality without their permission, nor may a guest permit another to join unless explicitly allowed, generally permitted, or known to be pleasing, as in Al-Marqah.
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جتنے آدمیوں کی دعوت ہو اتنے ہی جاویں، زیادہ نہ جاویں اگر کوئی ساتھ چلا جائے تو داعی کو اطلاع کرنی چاہئے خواہ وہ آنے دے یا نہ آنے دے۔ (مرقات 12)