English
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: “I know when you are pleased with me and when you are angry with me.” I said, “How do you know that?” He said, “When you are pleased with me, you say, ‘No, by the Lord of Muhammad,’ and when you are angry with me, you say, ‘No, by the Lord of Ibrahim.’” I said, “Yes, by Allah, O Messenger of Allah, I only forsake your name.” Agreed upon.
العربية
Typed, pending editorial approval
۳۳۳۷ - وَعَنْهَا(رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَي قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4422
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) مجھ سے فرمایا کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو مجھے اس کا علم
ہو جاتا ہے اور (اسی طرح) جب تم مجھ سے ناخوش ہوتی ہو تب بھی مجھے معلوم ہو جاتا ہے میں نے
عرض کیا کہ (یا رسول اللہ ﷺ) آپ یہ کیسے پہچان لیتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ جب تم مجھ سے
خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو اور اس طرح قسم کھاتی ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم یہ بات ایسی نہیں
اور جب تم مجھ سے ناخوش ہوتی ہو تو اس طرح قسم کھاتی ہو ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم یہ بات
ایسی نہیں ہے۔ (یہ سن کر) میں نے کہا (آپ صحیح فرماتے ہیں) خدا کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم! میں تو صرف آپ کا نام ہی نہیں لیتی (لیکن دل میں محبت باقی رہتی ہے)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5228 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2439 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ناخوشی کا جو ذکر ہے اس سے گھر بار کے معاملات میں دنیوی ناخوشی مراد ہے نہ کہ دینی ناخوشی جس سے ایمان میں خلل پیدا ہوا اور یہ ناخوشی سوکنوں کی وجہ سے ہوتی ہے جو عورتوں کی فطری بات ہے جس پر شریعت میں گرفت نہیں۔ (مرقات 12)