Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3378

Chapter

In this book

Current reading

Marriage

Chapter

Zujajat al-Masabih 3378Volume 2

English

Utbah narrated: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a black female slave and said: “O Messenger of Allah, I owe the freeing of a believing slave. Will this one suffice?” The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: “Who is your Lord?” She said: “Allah is my Lord.” He said: “What is your religion?” She said: “Islam.” He said: “Who am I?” She said: “You are the Messenger of Allah.” He said: “Do you pray the five prayers and affirm what I have brought from Allah?” She said: “Yes.” So he patted her back and said: “Free her.” In another narration from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utbah ibn Mas‘ud, a man from the Ansar came to the Prophet (ﷺ) with a black female slave of his and said to the Messenger of Allah (ﷺ): “O Messenger of Allah, I owe the freeing of a believing slave. Shall I free this one?” The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: “Do you testify that there is no god but Allah?” She said: “Yes.” He said: “Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah?” She said: “Yes.” He said: “Do you believe in the resurrection after death?” She said: “Yes.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Then free her.” This is a mursal hadith, and a connected version with some of its meaning has already been mentioned.

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۳۷۸ - عَنْ عُتْبَةَ قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةً إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ أَفَتُجْزِئُ عَنِّي هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ الله ﷺ: «مَنْ رَبُّكِ؟» قَالَتْ: اللهُ رَبِّي، قَالَ: «فَمَا دِينُكِ؟» قَالَتْ: الْإِسْلَامُ، قَالَ: «فَمَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُوْلُ اللهِ، قَالَ: «فَتُصَلِّيْنَ الْخَمْسَ وَتُقِرِّينَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدَ الله» قَالَتْ: نَعَمْ، فَضَرَبَ عَلَى ظَهْرِهَا، وَقَالَ: «أَعْتِقِيْهَا». وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ : يَا رَسُولَ الله، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ، أَفَأُعْتِقُ هَذِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «فَأَعْتِقْهَا هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ مَضَى مَوْصُوْلًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4492Noor 4493
عتبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سیاہ فام باندی کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ایک مومن غلام یا باندی کا آزاد کرنا واجب ہے کیا اس باندی کو آزاد کرنا کافی ہوگا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا تیرا رب کون ہے؟ اس نے جواب دیا اللہ میرا رب ہے! آپ نے پھر دریافت فرمایا تیرا دین کیا؟ اس نے جواب دیا اسلام (میرا دین ہے!) آپ نے پھر فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں! آپ نے پھر دریافت فرمایا تو کیا تو پانچوں نمازیں ادا کرتی ہے اور میں نے جو اللہ کے پاس سے لایا ہے اس کا اقرار کرتی ہے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں (اقرار کرتی ہوں) (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ تھپکی اور (جس خاتون نے لایا تھا اس سے) فرمایا تم اس کو آزاد کردو!۔ ایک اور روایت میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک انصاری اپنی ایک باندی جو سیاہ فام تھی اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھ پر ایک مومن غلام یا باندی کا آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کردوں تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تو گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے جواب دیا جی ہاں! (میں اس کی گواہی دیتی ہوں) پھر ارشاد فرمایا: کیا تو گواہی دیتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ تو اس نے جواب دیا جی ہاں! آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ تو مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟ تو اس نے جواب دیا ہاں! (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کو آزاد کر دو۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

یہ مرسل حدیث ہے اور موصول حدیث جو اسی کے ہم معنی ہے گزر چکی ہے۔