اردو
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے ایک آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ جب وہ کسی چیز کی قسم کھاتا ہے تو کہتا ہے
کہ (اگر وہ ایسا کرے گا) تو وہ یہودی ہے یا نصرانی ہے یا اسلام سے بری ہے۔ پھر وہ قسم توڑتا ہے تو
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اس پر) قسم کا کفارہ ہے۔ (بیہقی)۔
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اسلام کے سوا کسی مذہب کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ایسا ہی
ہے جیسا کہ اس نے کہا (گویا وہ ان مذہب والوں کی طرح سے ہو گیا)۔ انسان 1 پر جس چیز کا وہ
مالک نہیں ہے اس میں نذر متحقق نہیں ہوتی اور جو کوئی دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کرے گا تو اس کو اسی
چیز سے قیامت کے دن سزا دی جائے گی۔ اور جو کوئی کسی مسلمان پر لعنت کرے گا تو یہ اس کو قتل
کر دینے کی طرح سے ہے۔ اور جو کوئی کسی مسلمان پر کفر کی تہمت لگائے گا تو یہ اس کو قتل کر دینے کی
طرح سے ہے۔ اور جو کوئی جھوٹا دعویٰ کرے گا اس سے (اپنی چیز میں) اضافہ کرنے کی غرض سے تو
اللہ تعالیٰ اس کے نقصان ہی میں اضافہ کرے گا (یعنی وہ کم ہوتی جائے گی) (بخاری و مسلم)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے جو کوئی آدمی اپنے
ساتھی سے کہے آ، میں تیرے ساتھ جُؤا کھیلتا ہوں تو چاہئے کہ وہ صدقہ کرے 1۔ (بخاری، مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6047 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 110b (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 2
(2) The statement: “Let him give charity”: The command to give charity is interpreted by the jurists as recommended, as evidenced by the fact that if one intends to give charity and does not, there is no obligation of charity or anything else, but a good deed is recorded for him. [From “Umdat al-Qari”]