Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْقِصَاصِ

Hadith 3556

بَابُ أَهْلِ (١) الرَّدَّةِ وَالسُّعَاةِ بِالْفَسَادِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْقِصَاصِ

بَابُ أَهْلِ (١) الرَّدَّةِ وَالسُّعَاةِ بِالْفَسَادِ

Zujajat al-Masabih 3556Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٥٥٦ - وَعَنْ جُنْدُبٍ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: (حَدُّ1 السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ). رَوَاهُ النِّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1460 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The punishment of a sorcerer is a strike with the sword

(1) The statement: The punishment of a sorcerer is a strike with the sword: It is stated in Radd al-Muhtar: In Al-Fath: Sorcery is forbidden without disagreement among scholars, and believing it permissible is disbelief. Our scholars, Malik, and Ahmad say a sorcerer becomes a disbeliever by learning and practicing it, whether they believe it forbidden or not, and is executed. The hadith states: The punishment of a sorcerer is a strike with the sword, meaning execution. Al-Shafi‘i says they are neither executed nor deemed disbelievers unless they believe it permissible. In Al-Khaniyya: If someone uses a charm to separate a man from his wife, they are an apostate and executed if they believe it effective and attribute separation to the charm, as this is disbelief. In Tafsir al-Madarak: Shaykh Abu Mansur al-Maturidi said: Claiming sorcery is always disbelief is wrong; its reality must be examined. If it negates a condition of faith, it is disbelief; otherwise, it is not. Sorcery that is disbelief warrants execution for males, not females. Sorcery that is not disbelief but causes harm to life follows the ruling of highway robbers, applying to both genders. Repentance is accepted if they repent. Those who say it is not accepted err, as the sorcerers of Pharaoh had their repentance accepted.

Note 1

قوله

(١) قوله: حد الساحر ضربة بالسيف: قال في (رد المحتار): في (الفتح): السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم، واعتقاد إباحته كفر. وعن أصحابنا ومالك وأحمد يكفر الساحر بتعلمه وفعله، سواء اعتقد الحرمة أو لا، ويقتل. وفيه حديث مرفوع: (حد الساحر ضربة بالسيف) يعني القتل. وعند الشافعي لا يقتل ولا يكفر، إلا إذا اعتقد إباحته. وفي (الخانية): اتخذ لعبة ليفرق بين المرء وزوجه قالوا: هو مرتد، ويقتل إن كان يعتقد لها أثرا، ويعتقد التفريق من اللعبة؛ لأنه كافرا اهـ. وفي (تفسير المدارك): قال الشيخ أبو منصور الماتريدي : القول بأن السحر على الإطلاق كفرخطأ، بل يجب البحث عن حقيقته، فإن كان في ذلك ردّ ما لزم في شرط الإيمان فهو كفر، وإلا فلا. ثم السحر الذي هو كفر يقتل عليه الذكور لا الإناث. وما ليس بكفر - وفيه إهلاك النفس - ففيه حكم قطاع الطريق، ويستوي فيه المذكر والمؤنث. وتقبل توبته إذا تاب، ومن قال: لا تقبل فقد غلط؛ فإن سحرة فرعون قُبلت توبتهم.

Note 1

1 قولہ: الحدود (حدود) حد ایسی سزا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حق کے بطور مقرر کی گئی ہے۔ عقاب اور عقوبت میں فرق ارتکاب جرم کے باعث انسان کو جو تکلیف آخرت میں لاحق ہوتی ہے اس کو عقاب کہا جاتا ہے۔ اور جو تکلیف دنیا میں لاحق ہوتی ہے اس کو عقوبت کہا جاتا ہے۔ حد کا رکن......حد کو قائم کرنے کے لئے امام یا اس کا نائب ہونا شرط حد ۞ شرط حد میں یہ ہے کہ جس پر حد قائم کی جاری ہے وہ صاحب اعتدال (ذی عقل و باہوش) صحت مند ہو لہذا دیوانے پر اور اس پر جو حالت نشہ میں ہو حد قائم نہیں کی جائے گی اسی طرح بیمار اور ضعیف الخلقت پر جب تک وہ صحت مند نہ ہو جائیں، حد قائم نہیں کی جائے گی۔ اسباب حدود ۞ زنا کا ارتکاب یا تہمت لگانا یا شراب نوشی کرنا۔ حدود کی حکمت ۞ جس پر حد قائم کی جا رہی ہے اس کا آئندہ باز رہنا۔ اور حد کی تعریف میں شرع سے جانے کی قید تعزیرات سے احتراز کے لئے ہے کیونکہ تعزیر کی مقدار شریعت میں مقرر نہیں ہے بلکہ یہ حاکم وقت کی رائے کے حوالے ہے اور اللہ تعالیٰ کے حق کے بطور قید لگا کر قصاص سے احتراز مقصود ہے کیونکہ قصاص دلوں کی شفاء کے لئے ہے اور یہ قصاص بندوں کا حق ہے۔ تقدیرات (شریعت کی طرف سے مقرر کردہ سزاؤں وغیرہ) کی چار قسمیں ہیں 1۔ ان میں سے ایک تقدیر وہ ہے جس میں کمی زیادتی نہیں ہو سکتی تو وہ حدود ہیں۔ 2۔ دوسری تقدیر جس میں کمی زیادتی ہو سکتی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا اور کوئی نفس نہیں جانتا وہ کل کیا کمائے گا......کیونکہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ آج آنے والے وقت میں اور پرسوں کیا کمائے گا۔ 3۔ وہ تقدیر جس میں زیادتی نہیں ہو سکتی البتہ کمی ہو سکتی ہے جیسے خیار شرط امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس (تین دن سے زیادہ کا خیار نہیں رہے گا البتہ تین دن سے کم کی شرط کر سکتے ہیں) 4۔ وہ تقدیر ہے جس میں کمی نہیں ہو سکتی زیادتی ہو سکتی ہے۔ جیسے مدت سفر (قصر کے لئے تین دن کی مسافت) (ماخوذ از شروح کنز) 2 قولہ: الزانية والزاني الخ (زانیہ اور زانی) آزاد مرد اور آزاد عورتوں کے لئے سزا دو قسم کی ہے۔ 1۔ سو کوڑے لگانا: جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے۔ 2 ۔ شادی شدہ کے لئے رجم۔ (سنگسار کرنا) جو سورۃ احزاب میں مذکور تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: اذا زنى الشيخ و الشيخة فارجمو هما البتة نكالا من الله و الله عزيز حكيم ○ اور ایک روایت میں البتہ کے بعد ”بما قضيا من اللذة“ زائد ہے۔ جب شیخ یا شیخہ (شادی شدہ) زنا کرے تو قطعی طور پر ان دونوں کو سنگسار کرو ان کی شہوت رانی کی وجہ سے۔ اللہ کی طرف سے بطور عبرت ناک سزا، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ اور یہ آیت منسوخ التلاوت ہے۔ جیسا کہ محدث ابوعبید، امام حاکم اور دیگر حضرات نے روایت کی ہے۔ اور امام بخاری اور امام مالک موطا میں اور اسی سند سے امام محمد نے موطا میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے اپنی آخری حیات میں دوران خطبہ ارشاد فرمایا تم آیت رجم کے بارے میں ہلاک ہونے سے بچو مبادا کہ کوئی کہنے والا ایسا کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں دو حدوں کو نہیں پاتے ہیں۔ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رجم کئے ہیں اور ہم رجم کئے ہیں اور یقیناً اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو یقیناً میں اس کو لکھتا۔ الشيخ والشيخة فارجمو هما البتة یقیناً ہم نے اس کی قرأت کی ہے۔ امام مالک نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا رجم اللہ کی کتاب میں ثابت ہے شادی شدہ مرد اور عورتوں پر جب وہ زنا کریں اور اس پر دلیل قائم ہو یا حمل قرار پا یا ہو یا اعتراف کر لیا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔ ......حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لا يحل دم امرئ مسلم الا باحدى ثلاث رجل زنى بعد احصان فانه يرجم ورجل خرج محاربا لله ورسوله فانه يقتل او يصلب او ينفى من الارض ورجل قتل نفسه فانه يقتل بها۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی وغیرہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے۔ 1- ایسا آدمی جو شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے تو اس کو رجم کیا جائے گا۔ 2- ایسا آدمی جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے جنگ کرنے نکلے اس کو قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی۔ یا زمین میں اس کو بے وقت کردیا جائے گا۔ 3- اور ایسا آدمی جو کسی نفس کو قتل کرے تو اس کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے گا۔ امام ابوداؤد، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام نسائی اور دوسروں نے متقارب الفاظ کے ساتھ مختلف سندوں سے اس کی روایت کی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ رجم شادی شدہ قرآن پاک اور بکثرت احادیث شریفہ اور آثار صحابہ سے ثابت ہے بلکہ اس پر اجماع ہوا ہے۔ (عمدۃ الرعایہ) 3 قوله: فضربوا حدهم (پس ان کو ان کی حد لگائی گئی) یہاں اس سے تہمت لگانے کی حد مراد ہے۔ کتاب رحمة اللہ میں ہے ائمہ کرام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جب آزاد، عاقل، بالغ اور صاحب اختیار مسلمان صراحتاً زنا کی تہمت لگائے کسی ایسے آزاد، عاقل بالغ پاکباز مسلمان مرد پر جس پر زنا کی حد نہیں لگی ہے یا کسی آزاد، عاقلہ، بالغہ پاکدامن مسلمان خاتون پر جو لعان نہیں کی اور نہ اس پر حد زنا لگی ہے اور وہ (تہمت لگانے والا) دارالحرب میں نہیں ہے اور جس پر تہمت لگائی گئی ہے وہ حد کو قائم کرنے کا اپنی طرف سے مطالبہ کرے تو اس پر اسی (80) کوڑے حد لازم آئے گی اور اسی (80) سے زائد نہیں لگائی جائے گی۔ اور غلام کی حد تہمت لگانے میں تمام فقہاء کرام کے پاس آزاد آدمی کی حد کا نصف ہے۔12 4 قوله: انه زنى بامرأة و كان بكرا فجلده النبي صلى الله عليه وآله وسلم مائة الخ تم یہ بات یاد رکھو کہ زانیہ اور زانی کبھی شادی شدہ ہوتے ہیں اور کبھی غیر شادی شدہ ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں کوڑے لگانے کا مذکورہ حکم غیر شادی شدہ کے لئے ہے۔ اور پھر یہ بات کہ غیر شادی شدہ کے لئے ہمارے پاس صرف کوڑے لگانا ہے یعنی غیر شادی شدہ کی حد ہمارے پاس صرف کوڑے لگانا ہے۔ اور نفی (شہر بدر کرنا) دونوں کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ شہر بدر کرنا حد میں داخل نہیں ہے بلکہ یہ امر سیاسی ہے اور امام کی رائے کے حوالے ہے وہ چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا غیر شادی شدہ کی مکمل حد نفی کے ساتھ ہے یعنی ایک سال کے لئے شہر بدر کرنا بھی (حد میں) ہے یعنی کوڑے لگانے کے بعد زانی اور زانیہ کے درمیان ایک سفر کی مسافت کی دوری......