English
Abd al-Rahman bin al-Aswad reported from his father that he heard Abdullah (may Allah be pleased with him) saying: "The Prophet (peace be upon him) went to relieve himself, and he ordered me to bring him three stones. I found two stones, and when I searched for the third, I couldn't find it. So, I brought a piece of dung. The Prophet (peace be upon him) took the two stones, threw away the dung, and said: 'This is impure.'" [Narrated by Al-Nasa’i, and he mentioned that this ruling allows the use of two stones for cleaning]
Al-Tahawi narrated from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him) a similar report, stating: "This hadith shows that the Prophet (peace be upon him) relieved himself in a place that did not have stones, as he asked Abdullah to bring three stones. If there were stones in his vicinity, he wouldn't have needed to ask for them from elsewhere. When Abdullah brought him two stones and dung, and the Prophet (peace be upon him) threw away the dung and took the two stones, this indicates the permissibility of using two stones for cleaning. If using less than three stones were insufficient, the Prophet (peace be upon him) would have asked Abdullah to find a third stone. Therefore, this hadith suggests that the use of two stones is acceptable for cleaning."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٥٩ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيْهِ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ (رضي الله عنه) يَقُوْلُ: أَتَى النَّبِيُّ ﷺ الْغَائِطَ، وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةٌ، فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَقَالَ: فِيْهِ الرُّخْصَةُ فِي الاسْتِطَابَةِ بِحَجَرَيْنِ.
وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) مِثْلَهُ، وَقَالَ: فَفِي هَذَا الْحَدِيْثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ فَقَعَدَ لِلْغَائِطِ فِي مَكَانٍ لَيْسَ فِيْهِ أَحْجَارُ؛ لِقَوْلِهِ لِعَبْدِ اللهِ: نَاوِلْنِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ»، وَلَوْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَمَا احْتَاجَ إِلَى أَنْ يُنَاوِلَهُ مِنْ غَيْرِ ذَلِكَ الْمَكَانِ. فَلَمَّا أَتَاهُ عَبْدُ اللهِ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، دَلَّ ذَلِكَ عَلَى اسْتِعْمَالِهِ الْحَجَرَيْنِ، وَعَلَى أَنَّهُ قَدْ رَأَى أَنَّ الاِسْتِجْمَارَ بِهِمَا يُجْزِئُ مِمَّا يُجْزِئُ مِنْهُ الِاسْتِجْمَارُ بِالثَّلَاثِ؛ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ لَا يُجْزِئُ الاسْتِجْمَارُ بِمَا دُوْنَ الثَّلَاثِ لَمَا اكْتَفَى بِالْحَجَرَيْنِ وَلَأَمَرَ عَبْدَ اللهِ أَنْ يَبْغِيَهِ ثَالِيًّا، فَفِي تَرْكِهِ ذَلِكَ دَلِيْلٌ عَلَى اكْتِفَائِهِ بِالْحَجَرَيْنِ.
اردو
عبدالرحمٰن بن اسود رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے
عبداللہ بن مسعود کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نکلے اور مجھے
حکم دیا کہ تین پتھر لے آؤ، مجھے دو پتھر ملے میں نے تیسرا پتھر تلاش کیا تو نہیں ملا تو میں خشک لید (خشک
گوبر یا مینگنی) لے لیا اور تینوں کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دو پتھر
لے لئے اور لید کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)۔
طحاوی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت کی ہے اور کہا ہے کہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 42 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں دو پتھر سے طہارت کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
Note 2
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ قضائے حاجت کے لئے تشریف رکھے تھے کہ جہاں پتھر نہ تھے، اسی لئے آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دوسری جگہ سے تین پتھر لانے کے لئے فرمایا تھا اور اگر اس جگہ پر کچھ پتھر ہوتے تو آپ کو اس کی احتیاج نہ ہوتی کہ دوسری جگہ سے پتھر منگوائیں اور جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک خشک لید لے آئے تو لید کو پھینک دیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے دو ہی پتھر استعمال فرمائے اور جس طرح تین پتھر سے طہارت ہو جاتی ہے اسی طرح دو سے بھی ہو جاتی ہے، اور اگر دو پتھر سے طہارت کرنا کافی نہ ہوتا اور تین کا لینا ضروری ہوتا تو آپ دو پر اکتفاء نہ فرماتے، ورنہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ تیسرا تلاش کریں، جب آپ نے تیسرے کی تلاش کا حکم نہیں دیا تو معلوم ہوا کہ دو پر اکتفاء کرنا جائز ہے اور طاق ہونا ضروری نہیں۔12