اردو
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت کی ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لاتے اور وہ آپ کے لئے کھانا پیش کرتی تھیں اور ام حرامؓ،
عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے پاس تشریف لائے تو
انہوں نے آپ ﷺ کے لئے کھانا پیش کیا۔ اور آپ ﷺ کے سر مبارک کو غور سے دیکھنے لگیں۔
آپ ﷺ نے آرام فرمایا پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے تو وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول
اللہ ﷺ آپ کی اس خوشی کی کیا وجہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ
میں جہاد کرتے ہوئے مجھ پر پیش کئے گئے۔ اس سمندر کے بیچ میں اس طرح سوار ہو کر جیسے بادشاہ
تخت شاہی پر بیٹھے ہیں23 یا بادشاہوں کے جیسے جو تخت شاہی پر بیٹھے ہوئے ہیں (اس عبارت میں)
اسحاق راوی کو شک ہوا ہے۔ تو وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا
فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کردے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے (اس کی)
دعا فرمائی پھر آرام فرمایا اور اٹھے تو خوشی کا اظہار فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ
آپ کی اس خوشی کی کیا وجہ ہے آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئے اللہ کے
راستہ میں جنگ کرتے ہوئے جیسا کہ آپ نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا تو وہ کہتی ہیں تو میں نے عرض کیا یا
رسول اللہﷺ آپ میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں وہ مجھے ان میں سے کردے تو آپ نے فرمایا
تم پہلے والوں میں سے ہو۔ پس وہ معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں سمندر کا سفر کیں اور جس
وقت وہ سمندر سے نکلیں تو اپنی سواری سے گر گئیں اور انتقال کر گئیں۔ (بخاری)۔
اور امام مسلم نے اس کو یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2788 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1912a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) Regarding the saying: Riding the middle of this sea: This indicates permissibility of sea travel for jihad. Sa‘id ibn al-Musayyib said: The Prophet’s companions traded by sea, including Talha and Sa‘id ibn Zayd. This is the view of most scholars, except Umar ibn al-Khattab and Umar ibn Abdul Aziz, who prohibited it absolutely. Some restricted it to sea travel for worldly gain, not the Hereafter. Malik disliked women traveling by sea due to exposure concerns, and some specified small boats, not large ones. The hadith supports this. If you say: Abu Dawud narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not travel by sea except for Hajj, Umrah, or jihad, for beneath the sea is fire, and beneath the fire is sea. I say: This hadith is weak. Al-Khallal narrated in his Illal from Layth, from Mujahid, from Abdullah ibn Umar, raising it, and Ibn Ma‘in said: This, attributed to the Prophet (ﷺ), is rejected. [Umdat al-Qari] In Al-Alamgiriyya: If one intends to board a ship for trade or otherwise, if he could save himself from drowning if the ship sinks by any means, boarding is permissible. If he cannot, boarding is impermissible.
Note 1
(١) قوله: يركبون ثبج هذا البحر: فيه دلالة على ركوب البحر للغزو. وقال سعيد بن المسيب: كان أصحاب النبيﷺ يتجرون في البحر، منهم طلحة وسعيد بن زيد، وهو قول جمهور العلماء إلا عمر بن الخطاب وعمر بن عبد العزير هما؛فإنهما منعا من ركوبه مطلقًا، ومنهم من حمله على ركوبه لطلب الدنيا لا للآخرة، وكره مالك ركوبه للنساء مطلقًا؛ لمايخالف عليهن من أن يطلع منهن أو يطلعن على عورة، وخصه بعضهم بالسفن الصغار دون الكبار، والحديث يخدشفيه. فإن قلت: روى أبو داود من حديث ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: (لا يركب البحر إلا حاجا أو معتمرا أوغازيا؛ فإن تحت البحر نارا، وتحت النار بحرا) قلت: هذا حديث ضعيف، ولما رواه الخلال في علله من حديث ليث عن مجاهد عن عبد الله بن عمر يرفعه قال:قال ابن معين: هذا عن النبي ﷺ منكر. كذا في (عمدة القاري). وقال في (العالمكيرية): إذا أراد أن يركب السفينةفي البحر للتجارة أو لغيرها، فإن كان بحال لو غرقت السفينة أمكنه دفع الغرق عن نفسه بكل سبب يدفع الغرق بهحل له الركوب في السفينة، وإن كان لم يمكنه دفع الغرق بكل ما يدفع به الغرق لا يحل له الركوب.