English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ), “I bought seven sheep, but I owe a camel that has gone missing.” He said: “Buy seven sheep.” [Narrated by At-Tahawi] He said: “Do you not see that the Messenger of Allah (ﷺ) equated it to seven sheep, each sufficient for one person, not ten sheep?” Scholars said: The Hadith equating it to ten sheep is abrogated.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٩٥٦ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي الله عنهما قَالَ: سَأَلَ رَجُلَّ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم ، فَقَالَ: أَشْتَرِيْ سَبْعًامِنَ الْغَنَمِ إِنَّ عَلَيَّ ناقَة، وَقَدْ غَرَبَتْ عَنَّيْ، فَقَالَ: (اشْتَرِ سَبْعًا مِنَ الْغَنَمِ). رَوَاهُ الطَّحَارِيُّ،وَقَالَ: أَفَلَا تَرَى أَنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صلي الله عليه واله وسلم فِي هَذَا الْحَدِيْثِ إِنَّمَا عَدَّلَهَا بِسْبْعَ مِنَ الْغَنَمِ مِمَّايُجْزِئُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَنْ رَجُلٍ، وَلَمْ يُعَدَّلْهَا لِعِشْرِ مِنَ الْغَنَمَ اهـ وَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ:فَحَدِيْثُ تَعْدِيْلٍ عشْرَ شِيَاهِ مَنْسُوْخٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5359
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سات بکریوں کو خریدلو میرے ذمہ ایک اونٹنی ہے اور
وہ دودھ نکل گئی ہے پس آپ ﷺ نے فرمایا سات بکریاں خریدلو۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
اور انہوں نے (امام طحاوی نے) کہا کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث شریف میں سات بکریوں کو ایک اونٹنی کے برابر قرار دیا جو ایک آدمی کے لئے کافی ہوتی تھی اور اس اونٹنی کو دس بکریوں کے برابر قرار نہیں دیا۔ اور اہلِ علم نے کہا ہے کہ دس بکریوں کے برابر والی حدیث شریف منسوخ ہے۔ بسم الله الرحمن الرحيم
Note 2
1قولہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتٰبَ“ (9- سورۃ التوبۃ، آیت نمبر:29) (ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی ہے) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ”الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ“ (9- سورۃ التوبۃ، آیت نمبر:29) (جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں) کا بیان ہے۔ آیت کے معنی یہ ہیں کہ جزیہ اس شخص پر عائد کیا جائے گا جو اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں سے کسی کتاب کو مانتا ہو۔ جیسے یہودی کہ وہ تورات کو مانتا ہے اور سامری کہ وہ زبور کو مانتا ہے اور عیسائی کہ وہ انجیل کو مانتا ہے۔ (ماخوذ از: تفسیرات احمدیہ و شروح کنز) 2قولہ: قل للمخلفين الخ (آپ ان دیہاتیوں سے کہہ دیجیے جو پیچھے رہ گئے تھے) تفسیرات احمدیہ میں ہے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مرتدوں اور عرب کے مشرکوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ مفسرین نے اور صاحب ہدایہ نے بھی اس کی صراحت کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ”باب كيفية القتال“ میں فرمایا اور یہ (لڑائی کرنا) ان سے ہے جن سے جزیہ لیا جاتا ہے۔ اور لیکن جن سے جزیہ نہیں لیا جاتا ہے جیسے مرتدین اور عرب کے بت پرست، تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان سے صرف اسلام مطلوب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ“ (سورۃ الفتح، آیت نمبر:16) (ان سے تم جنگ کرو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے)۔ یہ صاحب ہدایہ کے الفاظ ہیں۔