Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْجِهَادِ

Hadith 3962

بَابُ الْجِزْيَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْجِهَادِ

بَابُ الْجِزْيَةِ

Zujajat al-Masabih 3962Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٩٦٢ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاس رضى ألله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم : (لَا تَصْلَحُ 1 قِبْلَتَانِ فِيأَرْض وَاحِدَةٍ، وَلَيْسَ 2 عَلَى مُسْلِمِ جِزْيَةً). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَوَالتَّرْمِذِيُّ. وَقَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: سُئِلَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ تَفْسِيْرِ هَذَا، فَقَالَ: إِذَا أَسْلَمَ فَلَا جِزْيَةَعَلَيْهِ. وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعْجَمِهِ الْأَوْسَطِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ها عَنِ النَّبِيِّ وَلِهِ قَالَ: (مَنْأَسْلَمَ فَلَا جِزْيَةَ عَلَيْهِ).
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 633 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3053 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Two qiblahs cannot coexist in one land

(1) The statement: “Two qiblahs cannot coexist in one land”: Per (Fath al-Bari), this implies prohibition, meaning Muslims are forbidden from residing in the land of disbelief, or rulers are forbidden from allowing dhimmis to display disbelief’s symbols in Muslim lands. As in (Badhl al-Majhud). In (Al-Mirqat), Turbishti said: Two religions cannot coexist equally in one land. A Muslim must not choose to live among disbelievers, as this places him like a dhimmi among us, adopting the mark of those who pay jizyah, which is humiliation, while honor belongs to Allah, His Messenger, and the believers. A non-Muslim cannot reside in Muslim lands except by paying jizyah, and is not permitted to propagate his religion. Some say this Hadith refers to expelling Jews and Christians from the Arabian Peninsula. Ibn al-Malik said: A Muslim and disbeliever cannot live in one town, specific to the Arabian Peninsula.

Note 2

No jizyah is on a Muslim

(2) The statement: “No jizyah is on a Muslim”: If a person under jizyah converts to Islam after the year’s term, jizyah is lifted, per: “Whoever becomes Muslim has no jizyah upon him.” Unlike slavery, which remains due to established rights, jizyah is specific. Shafi‘i and Malik (for death) say jizyah is a debt, not lifted by Islam or death, as it is compensation for protection and residence in Muslim lands, which persists. Hanafis cite the narration and argue jizyah is a penalty for disbelief or a substitute for fighting support, which ends with Islam or death, as penalties do not apply after these. Jizyah is a substitute for our protection, which a Muslim provides himself, and protection as a human persists for dhimmis, who own their residence, so no compensation is due for living in their own property. As in (Sharh al-Kanz), (Badhl al-Majhud), and (‘Inayah).

Note 1

قوله

(١) قوله: لا تصلح قبلتان في أرض واحدة: نقل في الحاشية عن (الفتح): الظاهر أنه نفي بمعنى النهي. والمراد نهيالمؤمن عن الإقامة بأرض الكفر أو نهي الحكام عن أن يمكنوا أهل الذمة من إظهار شعار الكفر في بلاد المسلمين.كذا في (بذل المجهود). وقال في (المرقاة): قال التوربشتي: أي لا يستقيم دينان بأرض على سبيل المظاهرةوالمعادلة، أما المسلم فليس له أن يختار الإقامة بين ظهراني قوم كفار؛ لأن المسلم إذا صنع ذلك. فقد أحل نفسهفيهم محل الذمي فينا، وليس له أن يجر إلى نفسه الصغار ويتوسم بسمة من ضرب عليه الجزية، وأنى له الصغار والذلة،ولله العزة ولرسوله وللمؤمنين، وأما الذي يخالف دينه دين الإسلام، فلا يمكن من الإقامة في بلاد الإسلام إلا ببذلالجزية، ثم لا يؤذن له في الإشاعة بدينه اھ. وقيل: هذا الحديث إشارة إلى إجلاء اليهود والنصارى من جزية العرب،قال ابن الملك: أي لا يجوز أن يسكن المسلم والكافر في بلدة واحدة. وهذا مختص بجزيرة العرب.

Note 2

قوله

(٢) قوله: وليس على المسلم جزية: أي لو أسلم من عليه الجزية بعد ما تمت السنة تسقط عنه الجزية؛ لقوله عليه السلام:(منأسلم فلا جزية عليه). وإنما لم يسقط الرق بالإسلام؛ لأنه تعلق به حق معين، فلا يبطل به وقيد بالجزية؛لأن الديون والخراج ولأجرة لا تسقط بالإسلام والموت اتفاقا. وقال الشافعي: لا تسقط الجزية بالإسلاموالموت؛ لأنها دَين، وبه قال مالك في الموت، ولأنها وجبت عوضا عن العصمة، وعن السكنى في دار الإسلام. وقدوصل إليه المعوض بنيل العصمة والسكنى، فلا يسقط عنه العوض بعارض. ولنا ما روينا، ولأنها عوض عن امتهانوجوده، وهو القتل؛ لأنها وجبت عقوبة على الكفر أو بدلا عن النصرة، ولا تبقى العقوبة على الكفر بعد الإسلام ولابعد الموت، ولأن شرع العقوبة في الدنيا لا يكون إلا لدفع الشر. وقد اندفع بالموت والإسلام، ولأنها وجبت بدلا عن النصرة في حقنا. وقد قدر عليها بنفسه بعد الإسلام والعصمة ثبت بكونه آدميا، والذمي يسكن ملك نفسه، فلامعنى لا يجاب بدل العصمة والسكنى، ومعناه أن الذمي يملك موضع السكنى بالشراء وغيره من الأسباب، فلا يجوزإيجاب البدل بسكناه في موضع مملوك له. أخذته من شروح (الكنز) و (بذل المجهود) و(العناية).

Note 1

7قولہ: لا تصلح قبلتان في ارض واحدة الخ (ایک زمین میں دو قبلے درست نہیں ہیں) حاشیہ میں صح سے منقول ہے ظاہر بات یہ ہے کہ یہ نفی بمعنی نہی ہے اور مومن کو سر زمین کفر میں قیام پذیر ہونے سے منع کرنا مقصود ہے یا حکام کو اس بات سے منع کرنا ہے کہ وہ ذمیوں کو مسلمانوں کے ملک میں شعائر کفر ظاہر کرنے کی قدرت دیں۔ (بذل المجہود) صاحب مرقات نے کہا ہے: تُورِبِشْتی رحمہ اللہ نے کہا کہ ایک زمین میں دو دین غلبہ اور برابری کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتے۔ البتہ مسلمان کے لئے کافروں کے درمیان سکونت اختیار کرنا درست نہیں ہے کیونکہ مسلمان اگر ایسا کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو ان کے درمیان اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جو ہمارے درمیان ذمی کا مقام ہے۔ اور اس (مسلمان) کے لئے مناسب نہیں کہ اپنی طرف ذلت کو کھینچ لائے اور ان لوگوں کی علامت اختیار کرے جن پر جزیہ مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لئے ذلت و حقارت کیوں کر ہو سکتی ہے۔ جب کہ عزت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے اور مومنوں کے لئے ہی ہے۔ البتہ جس کا مذہب دین اسلام کے مخالف ہو تو اس کو جزیہ کی ادائی کے ذریعہ سے ہی دارالاسلام میں قیام کی گنجائش دی جا سکتی ہے پھر بھی اس کو اپنے مذہب کی نشر و اشاعت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور کہا گیا کہ اس حدیث شریف میں یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دینے کی طرف اشارہ ہے۔ ابن الملک رحمہ اللہ نے کہا ہے یعنی مسلمان اور کافر کا جزیرہ العرب کے کسی ایک شہر میں بود و باش اختیار کرنا درست نہیں ہے۔ اور یہ حکم جزیرہ عرب کے ساتھ مخصوص ہے۔ 8قولہ: وليس على المسلم جزية الخ (اور مسلمان پر جزیہ نہیں ہے) یعنی جس شخص پر جزیہ مقرر ہے اگر وہ ایک سال مکمل ہونے کے بعد اسلام قبول کرے تو اس سے جزیہ ساقط ہو جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی وجہ سے کہ ”من اسلم فلا جزية عليه“ جو اسلام قبول کرے تو اس پر جزیہ نہیں ہے۔ اس کے سوا نہیں کہ اسلام کے باعث غلامی ساقط نہیں ہوتی کیونکہ اس (غلامی) سے ایک معین حق متعلق ہے جو اسلام کی وجہ سے باطل نہیں ہوگا۔ اس (حکم سقوط) کو جزیہ سے مخصوص کیا گیا کیونکہ قرضہ جات، خراج اور اجرت (اسلام کی وجہ سے اور موت کی وجہ سے بالاتفاق ساقط نہیں ہوتے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے جزیہ اسلام اور موت کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا کیونکہ وہ بھی ایک قرض ہے اور موت کے بارے میں یہی بات امام مالک رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے اور یہ اس لئے بھی کہ (جزیہ) حفاظت کے اور دارالاسلام میں رہائش کے بدلے میں واجب ہوا ہے اور کافر کو عصمت و سکونت حاصل ہونے کی وجہ سے وہ چیز مل چکی ہے جس کا عوض جزیہ ہے لہذا اس (کافر) سے کسی عارضی شئے کی وجہ سے عوض ساقط نہیں ہوگا۔ اور ہماری دلیل وہ حدیث شریف ہے جس کو ہم نے روایت کیا ہے اور اس لئے کہ جزیہ اس کے قتل کے بدلے میں ہے کیونکہ وہ کفر کی سزا کے بطور واجب ہے۔ یا نصرت و مدد کے بدلے کے طور پر ہے اور کفر کی سزا اسلام قبول کرنے کے بعد اور مرنے کے بعد باقی نہیں رہتی اور اس لئے بھی کہ دنیا میں سزا کا مقرر کیا جانا تو صرف دفع شر کے لئے ہوتا ہے اور یہ (شر) موت اور اسلام کے ذریعہ دفع ہو چکا ہے اور اس لئے بھی کہ یہ ہمارے حق میں نصرت کے بدلے میں واجب ہے۔ اور وہ اسلام لانے کے بعد اس پر (نصرت پر) قادر ہو چکا ہے اور عصمت اس کے آدمی ہونے کی بناء پر ثابت ہوتی ہے۔ اور ذمی اپنے نفس کا مالک ہو کر رہتا ہے اس لئے حفاظت و سکونت کا بدل واجب کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ذمی اپنے رہائش کے مقام کو خرید کر یا اس کے سوا دوسرے اسباب کے ذریعہ مالک بن سکتا ہے اس لئے اس کے مملوکہ مقام میں رہائش کا بدل واجب کرنا جائز نہیں۔ (ماخوذ از: شرح کنز، بذل المجہود، عنایہ) 9 قولہ: فامرنی ان اخذ من المسلمين الخ (اور مجھے حکم فرمایا کہ میں وصول کروں) تجارتی اموال کے بارے میں یہی بات مذہب میں مقرر ہے کہ حربی کے مال سے دسواں حصہ اور ذمی سے بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ اور مسلمان سے چالیسواں حصہ لیا جائے گا، ان شرائط کے ساتھ جو کتاب الزکوۃ میں مذکور ہیں۔ اور یہ تفصیل عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کے مجموعہ میں اپنے عمال کو یہی حکم فرمایا تھا پھر جو زکوۃ مسلمان سے لی جائے گی وہ اس کے مصارف میں خرچ کی جائے گی اور جو ذمی اور حربی سے لی جائے گی وہ زکوۃ نہیں ہے۔ اس کو جزیہ و خراج کے مصرف میں خرچ کیا جائے گا۔ اور حربی سے لے جانی والی چیز کا حکم بھی ایسا ہی ہے۔ بلکہ ان دونوں سے حفاظت کی غرض سے لیا جاتا ہے جیسا کہ بنایہ میں ہے۔ (ماخوذ از: مرقات وعمدۃ الرعایۃ) 10 قولہ: ان أبوا أن لا تاخذوا كرها فخذوا...... الخ (اگر وہ زبردستی لینے کے سوا کسی بھی صورت سے انکار کریں تو ان سے لو) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ یہ ابتداء اسلام میں تھا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فوجوں کو غزوہ کے لئے روانہ فرماتے، وہ اپنے راستوں میں عرب کے قبیلوں سے گزرتے وہاں کوئی بازار نہیں ہوتا کہ اس سے غلہ خریدیں اور نہ ان کے پاس کوئی توشہ ہوتا لہذا ان کی ضیافت کو ان پر واجب قرار دیدیا تاکہ یہ لوگ جنگ سے منقطع نہ ہوجائیں پس جب اسلام قوی ہوگیا اور لوگوں کے ساتھ مہربانی و شفقت کا غلبہ ہوا تو اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اور جواز و استحباب باقی رہا۔