Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Foods

Hadith 4126

Opening narrations

In this book

Current reading

Foods

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 4126Volume 3

English

Abu Ayyub (may Allah be pleased with him) narrated: Whenever food was brought to the Prophet (ﷺ), he ate from it and sent the leftovers to me. One day, he sent a dish he had not eaten from because it contained garlic. I asked: “Is it forbidden?” 1 He said: “No, but I dislike it because of its smell.” I said: “I dislike what you dislike.” [Narrated by Muslim] In Bukhari and Muslim, from Jabir (may Allah be pleased with him): The Prophet (ﷺ) said: “Whoever eats garlic or onions should stay away from us,” or he said: “from our mosque, 2 and sit in his house.” The Prophet (ﷺ) was brought a pot with green herbs, noticed its smell, and said: “Bring it to some of his companions,” and said: “Eat, for I converse with one you do not converse with.” Abu Dawud and al-Tirmidhi narrated from Ali (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating garlic unless cooked. 3 Muhammad said in “Al-Muwatta”: He disliked it for its smell, but if cooked to remove the smell, there is no issue, per Abu Hanifah and most scholars.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2053a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 564b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

Is it forbidden, etc.

(1) The statement: “Is it forbidden, etc.”: In “Al-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar,” eating garlic and similar things with an offensive smell, like onions, is disliked and prohibited, per the authentic hadith forbidding approaching the mosque after eating garlic or onions. Al-Imam al-Ayni in his commentary on “Sahih al-Bukhari” said: The reason for the prohibition is harm to angels and Muslims, not limited to the Prophet’s mosque, as “mosques” is plural, contrary to some outliers. Anything with an offensive smell, edible or not, is included. Garlic, onions, and leeks were specified due to their common consumption. This extends to bad breath, wounds with odor, butchers, fishermen, lepers, and those with contagious diseases. Sahnun said Jumu’ah prayer is not obligatory for them, citing the hadith. Ibn Umar issued a fatwa accordingly, establishing the principle of excluding those who cause harm. An excused person eating smelly food is pardoned, per Mughirah ibn Shu’bah’s narration in “Sahih Ibn Hibban”: He approached the Prophet (ﷺ), who smelled garlic, but upon learning his chest was bandaged, the Prophet (ﷺ) excused him. Al-Tabarani’s narration in “Al-Awsat” confirms this, noting no rebuke. The statement “sit in his house” explicitly excuses staying home from congregation due to such foods, as they harm Muslims and angels. For Muslims, it excuses missing congregation; for angels, it excuses avoiding the mosque even alone. I say: This excuse should be limited to eating such food for a valid reason or forgetting before prayer time, so one does not intentionally cause absence from congregation, per summarized sources.

Note 2

Stay away from our mosque

(2) The statement: “Stay away from our mosque”: Some said this is specific to the Prophet’s Mosque, but the majority hold it applies to all mosques, as “mosques” is plural, supported by the narration: “Angels are harmed by what harms humans.” This indicates the prohibition is due to offensive smells harming mosque attendees, human or angel, including onions, radishes, leeks, and similar things, like smoking, a widespread issue today. Opinions on smoking vary: some prohibit it, some permit it without dislike, and some deem it disliked (prohibitively or lightly). This is detailed in my treatise “Tarwih al-Jinan bi-Tashrih Hukm Shurb al-Dukhan,” which should be reviewed, per “Al-Ta’liq al-Mumajjad” on “Muwatta Muhammad” by Mawlana Muhammad Abdul Hayy.

Note 3

Unless cooked

(3) The statement: “Unless cooked”: This qualifies the general prohibition in other hadiths, per “Al-Mirqat.”

Note 1

قوله

(١) قوله: فسألته أحرام هو إلخ: قال في (الدر المختار) و(رد المحتار): ويكره أكل نحو ثوم ويمنع منه: أي كبصلونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. قال الإمام العيني فيشرحه على (صحيح البخاري): قلت: علة النهي أذى الملائكة وأذى المسلمين، ولا يختص بمسجده صلي الله عليه واله وسلم بل الكلسواء؛ لرواية مساجدنا بالجمع، خلافًا لمن شذ ويلحق بما نص عليه في الحديث كل ماله رائحة كريهة مأكولا أو غيره.وإنما خص الثوم هنا بالذكر، وفي غيره أيضًا بالبصل والكراث؛ لكثرة أكلهم لها، وكذلك ألحق بعضهم بذلك من بفيهبخرا، وبه جرح له رائحة، وكذلك القصاب والسماك والمجذوم والأبرص أولى بالإلحاق. وقال سحنون: لا أرى الجمعة عليهما، واحتج بالحديث، وألحق بالحديث كل من آذى الناس بلسانه، وبهأفتى ابن عمر، وهو أصل في نفي كل من يتأذى به، ولا يبعد أن يعذر المعذور بأكل ما له ريح كريهة؛ لما في (صحيحابن حبان) عن المغيرة بن شعبة قال: انتهيت إلى رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم فوجد مني ريح الثوم، فقال: من أكل الثوم؟فأخذت يده فأدخلتها، فوجد صدري معصوبا. فقال: إن لك عذرا، وفي رواية الطبراني في (الأوسط): (اشتكيصدري فأكلته، وفيه فلم يعنفه صلي الله عليه واله وسلم ، وقوله صلي الله عليه واله وسلم:(وليقعد في بيته)، صريح في أن أكل هذه الأشياء عذر في التخلفعن الجماعة، وأيضًا هنا علتان أذى المسلمين وأذى الملائكة، فبالنظر إلى الأولى يعذر في ترك الجماعة وحضورالمسجد، وبالنظر إلى الثانية يعذر في ترك حضور المسجد، ولو كان وحده. انتهى ملخصًا. أقول: كونه يعذر بذلكينبغي تقييده بما إذا أكل ذلك بعذر أو أكل ناسيا قرب دخول وقت الصلاة؛ لئلا يكون مباشرا لما يقطعه عن الجماعة بصنعه.

Note 2

قوله

(٢) قوله: فليعتزل مسجدنا: قيل: هذا خاص بمسجد النبي صلي الله عليه واله وسلم والجمهور على أنه عام في كل المساجد ومعني (مسجدنا): يعني مساجد المسلمين، يدل عليه ما ورد في رواية: فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو آدم، وهذا يدلعلى أن علة النهي هو الرائحة الكريهة المؤذية لأهل المسجد من بني آدم والملائكة، وبه استدل على كراهة كل ما لهرائحة كريهة كالبصل والفجل والكراث ونحو ذلك ومثله شرب الدخان المتداول في هذه الأزمان وتداوله بَلِيّةٌ عامةشملت الخواص والعوام. واختلفت فيه أقوال الكرام، فمن محرم ومن مبيح بلا كراهة، ومن حاكم بالكراهة تحريما أوتنزيها. وقد حققت الأمر فيه في رسالتي (ترويح الجنان بتشريح حكم شرب الدخان) فلتراجع. كذا في (التعليقالممجّد) على (موطأ محمد) لمولانا محمد عبد الحي.

Note 3

قوله

(٣) قوله: إلا مطبوخا: قال في (المرقاة): وهذا الحديث يفييد تقيد ما ورد من الأحاديث المطلقة في النهي.

Note 1

1؎ قوله : فسألته أحرام هو الخ (پس میں نے دریافت کیا کیا وہ حرام ہے؟) درمختار اور ردالمحتار میں ہے لہسن جیسی چیز کا کھانا مکروہ ہے اور اس سے روکا گیا ہے یعنی پیاز اور اس جیسی چیز جس کی ناپسندیدہ بو ہو صحیح حدیث کی بناء ہے جس میں لہسن اور پیاز کھا کر مسجد کے قریب آنے والے کیلئے ممانعت ہے۔ امام عینی نے صحیح بخاری کی اپنی شرح میں فرمایا میں کہتا ہوں ممانعت کی علت فرشتوں کی تکلیف اور مسلمانوں کی تکلیف ہے اور یہ حکم مسجد نبوی (علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) سے مختص نہیں بلکہ تمام مساجد برابر ہیں کیونکہ ”مساجدنا“ کی روایت جمع کے صیغے کے ساتھ ہے۔ برخلاف ان کے جو اس میں منفرد ہیں۔ اور اس حدیث شریف میں جس کی صراحت کی گئی ہے اس چیز کو شامل کیا جائیگا جس کی ناپسندیدہ بو ہو۔ خواہ کھائے جانے والی چیز ہو یا نہ ہو۔ یہاں لہسن کو اور دوسری حدیث میں پیاز اور جنگلی پیاز کو لوگوں کے کثرت سے کھانے کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ اسی طرح بعض علماء نے اس میں اس آدمی کو شامل کیا جس کے منہ میں بو ہو یا اس کو ایسا زخم ہو جس کی بو ہو۔ اسی طرح قصاب، مچھیرا، جذامی اور برص والا (اس حکم میں) بدرجہ اولیٰ شامل کئے جائیں گے۔ اور سحنون نے کہا: میری رائے میں ان دونوں پر جمع نہیں ہے اور انھوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور حدیث میں ان تمام لوگوں کو شامل کیا جن کی زبان سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور اسی پر ابن عمر نے فتویٰ دیا ہے اور یہی ان تمام لوگوں کو روکنے کی دلیل ہے۔ جن سے تکلیف ہوتی ہے یہ بات بعید نہیں کہ بودار چیز کے کھانے میں معذور کے عذر کو قبول کر لیا جائے اس حدیث کی بناء پر جو صحیح ابن حبان میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے لہسن کی بو کو پایا تو ارشاد فرمایا کس نے لہسن کھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کو پکڑ لیا اور اس کو داخل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے کو پٹی سے بندھا ہوا پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یقیناً تمکو عذر ہے۔ الاوسط للطبرانی کی روایت میں ہے اور میں نے اپنے سینے کی شکایت کی اور میں نے اس کو کھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں مجھ پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد: ”چاہئے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے“ صریح ہے اس بارے میں کہ ان اشیاء کا کھانا جماعت سے پیچھے رہنے میں عذر ہے۔ اور یہاں بھی دو علتیں ہیں۔ 1) مسلمانوں کی تکلیف 2) فرشتوں کی تکلیف (حاشیہ صفحہ گزشتہ) پہلی علت کو دیکھتے ہوئے وہ جماعت کو چھوڑنے اور مسجد حاضر ہونے میں معذور ہوگا اور دوسری علت کو دیکھتے ہوئے مسجد کی حاضری کو ترک کرنے میں معذور نہ ہوگا اگرچہ وہ تنہا ہو (ملخص) میں کہتا ہوں کہ اس کے اس میں معذور ہونے کو اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب وہ اس کو کسی عذر کی وجہ سے یا نماز کے وقت کے داخل ہونے کو بھول کر کھائے تاکہ وہ ایسا کام کرنے والا قرار نہ پائے جو اس کے اپنے عمل سے جماعت کو چھوڑنے والا ہو جائے۔ 1 قوله : فليعتزل مسجدنا (چاہئے کہ وہ ہماری مسجد سے الگ رہے) کہا گیا کہ یہ (حکم) مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے۔ اور جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حکم تمام مسجدوں کے بارے میں عام ہے ”ہماری مسجد“ کے معنی مسلمانوں کی مساجد مراد ہیں۔ اس پر وہ چیز دلالت کرتی ہے جو روایت میں وارد ہوتی ہے کیونکہ ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے ان چیزوں سے جس سے بنی آدم کو تکلیف ہوتی ہے۔ اور یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ممانعت کی علت ناپسندیدہ بو ہے جو اہل مسجد یعنی بنی آدم اور فرشتوں کیلئے تکلیف دہ ہوتی ہے اور اسی سے ہر اس چیز کی کراہت پر استدلال کیا گیا جس کی ناپسندیدہ بو ہو جیسے پیاز، مولی جنگلی پیاز اور اس جیسی چیزیں اور اسی طرح سگریٹ نوشی ہے جو اس زمانے میں عام ہے اور لوگوں کے درمیان یہ ایک ایسی بلا ہے جو خاص و عام کو لپیٹ میں لے لی ہے اس میں بزرگوں کے اقوال مختلف ہیں بعض حرام قرار دیتے ہیں اور بعض بلا کراہت جائز قرار دینے والے ہیں اور بعض کراہت تحریمی یا تنزیہی کا حکم لگاتے ہیں۔ اور فی الواقع میں نے اس میں حکم کو اپنے رسالہ ”ترويح الجنان بتشريح حكم شرب الدخان“ میں تحقیق سے لکھا ہے پس اس کی طرف مراجعت کرو۔ مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شریف التعلیق الممجد علی موطا محمد میں اسی طرح ہے۔ 1 قوله الا مطبوخا (مگر وہ پکایا ہوا ہو) مرقات میں ہے اس کی ممانعت سے متعلق جو احادیث مطلق آئی ہیں اس حدیث سے ان کو مقید کرنے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ امام محمد نے مؤطا میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کی بو کی وجہ سے ناپسند فرمایا پس جب تم اس کی بو کو پکا کر ختم کردو تو اس میں حرج نہیں یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ اور عام فقہاء رحمہم اللہ کا ہے۔ 2 قوله آخر طعام اكله رسول الله ﷺ طعام فيه بصل (آخری کھانا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا اس میں پیاز تھی) یعنی لفظ طعام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پکی ہوئی پیاز تھی کیونکہ عام طور پر اس میں پکی ہوئی ہوتی ہے۔ ابن ملک نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنی اخیر عمر میں تناول فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ یہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں۔ اور یہی مظہر کا قول ہے۔ ابن حجر نے شمائل کی شرح میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کو کھانا آپ نے اس لئے لہسن اور مولی سے جو منع فرمایا ہے اس کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ممانعت کچی پیاز کے بارے میں ہے کیونکہ صحیح ترین قول کی بناء پر وہ مکروہ ہے حرام نہیں۔ طیبی نے کہا ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سابق میں گزری ہوئی حدیث میں بیان کردیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بو کی وجہ سے ناپسند فرمایا اور جو پکی ہوئی ہو خصوصاً پیاز تو اس کی بو نہیں رہتی۔ امام طحاوی نے شرح الآثار میں احادیث نقل کرنے کے بعد کہا پس یہ احادیث پیاز کراث اور لہسن جیسی چیز کے کھانے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں خواہ وہ پکی ہوئی ہو یا کچی ہوئی نہ ہو بشرطیکہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور مسجد میں آنے کی کراہت پر دلالت کرتی ہیں جبکہ اس کی بو موجود ہو تاکہ اس میں موجود فرشتوں اور انسانوں کو اس سے تکلیف نہ ہو۔ انہوں نے کہا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ 1 قوله كيلوا طعامكم الخ (تم اپنے غلہ کو ناپ لیا کرو) مظہر نے کہا: کھانا ناپنے کی غرض یہ ہے کہ آدمی جو قرض لیتا ہے اور جو خرید و فروخت کرتا ہے اس کی مقدار معلوم ہو کیونکہ اگر وہ نہ ناپے تو جو وہ بیچے گا اور خریدیگا وہ مجہول ہوگا اور وہ جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر جو کچھ وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کر رہا ہے نہ ناپے تو بسا اوقات وہ ان کو کافی ہونے کی مقدار سے کم ہوگا تو یہ بھی ان پر ضرر ہوگی اور کبھی ان کے کافی ہونے کی مقدار سے زائد ہوگا تو وہ پورے سال کے لئے جو ذخیرہ کرے گا اس سے ناواقف ہوگا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپنے کا حکم فرمایا تاکہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس میں ان کو واقفیت اور یقین رہے۔ پس جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کا لحاظ رکھا وہ دنیا میں بڑی برکت اور آخرت میں بڑے اجر کو پائیگا۔ (مرقات)۔ 2 قوله: هو اعظم للبركة (وہ برکت کے لئے بڑی چیز ہے) اسی لئے ردالمحتار میں ہے کھانے کی سنت یہ ہے کہ کھانا گرم حالت میں نہ کھایا جائے۔ 3 قوله كان اذا رفع مائدته قال الحمد لله...... الخ (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دستر اُٹھاتے تو الحمد للہ فرماتے) (عالمگیری میں ہے کھانے کی سنتیں ابتداء میں بسم اللہ پڑھنا اور آخر میں الحمد للہ کہنا ہے پس اگر وہ ابتداء میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آجائے تو اس کو بسم الله على اوله و آخره کہنا چاہئے (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اس کے شروع میں اور اس کے اخیر میں (الاختيار شرح المختار)) اور جب تم بسم اللہ کہو تو اپنی آواز کو بلند کر دو تاکہ تم اپنے ساتھ والوں کو تلقین کرسکو (تاتارخانیہ) اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کیا جائیگا بشرطیکہ کھانا حلال ہو اور اس کے اخیر میں الحمد للہ کہا جائیگا خواہ وہ کیسا بھی ہو۔ 1 قولہ : الطاعم الشاكر الخ (کھانے والا جو شکر گزار ہے) کہا گیا کہ اس کا کم سے کم شکریہ ہے کہ جب وہ کھائے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے اور جب فارغ ہوے تو اس کی حمد کرے۔ (مرقات) 1 قولہ فلیکرم ضیفہ (وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے) جمہور نے کہا ضیافت کرنا سنت ہے اور واجب نہیں، (پہلے) واجب تھا چنانچہ اس کا وجوب منسوخ ہو گیا۔ یہ (بات) امام طحاوی نے کہی اور جمہور نے کہا: مہمان کا اکرام خندہ پیشانی اور اچھی گفتگو اور تین دن کھانا کھلانے کے ذریعے ہوتا ہے۔ پہلے دن اپنی طاقت و سہولت کے ساتھ اور باقی دن بلا تکلف جو کچھ موجود ہو اس کے ذریعے، تاکہ وہ اس پر اور خود اپنے آپ پر بوجھ نہ بنے اور تین دن کے بعد اس کو صدقہ میں شمار کیا جائے گا، اگر وہ چاہے تو کرے ورنہ نہ کرے۔ داودی نے کہا: آدمی اپنے گھر والوں کیلئے جو کچھ کرتا ہے تو مہمان کے اکرام میں اس سے زیادہ کرے۔ کرمانی نے کہا: اگر تم کہو ان تین امور کو بیان کرنے کی وجہ کیا ہے تو میں کہتا ہوں یہ کلام جوامع الکلم میں سے ہے۔ کیونکہ یہ اصولی باتیں ہیں۔ کیونکہ ان میں سے تیسری چیز میں قولی اصول کی طرف اشارہ ہے اور پہلی دو چیزوں میں فعلی اصول کی طرف اشارہ ہے ان دونوں میں سے دوسری چیز سے رذائل کو چھوڑنے کی طرف اور پہلی چیز سے فضائل سے آراستہ ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی جس شخص میں اللہ کے حکم کی تعظیم کی صفت موجود ہو تو اس کے لئے اللہ عزوجل کی مخلوق پر مہربانی کرنے کی صفت کے ساتھ متصف ہونا ضروری ہے۔ یا تو اچھی بات کہہ کر یا بری بات سے سکوت اختیار کر کے یا مفید کام انجام دے کر یا نقصان دہ چیزوں کو چھوڑ کر۔ (ماخوذ از عمدۃ القاری، مرقات)۔ 1 قوله فليقل خيرا او ليصمت (چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے) یعنی جب وہ بات کرنے کا ارادہ کرے اور جو بات وہ کر رہا ہے وہ خیر و ثواب کی ہے خواہ وہ واجب ہو یا مستحب تو اس کو چاہیے کہ وہ یہی بات کہے اور اگر اس بات کا اچھا ہونا ظاہر نہ ہو یا اس بات کا حرام یا مکروہ یا مباح ہونا ظاہر ہو تو اس سے رک جائے یا اس میں مباح کلام کو بھی ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے کہ اس کے مفضی الی الحرام ہونے کا اندیشہ ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله فليكرم ضيفه الخ (چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے) زرقانی رحمہ اللہ نے کہا: جمہور کے پاس مہمان کا اکرام کرنے کا حکم استحبابی ہے کیونکہ ضیافت کرنا عمدہ اخلاق میں سے ہے۔ واجب نہیں ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد جائزۃ کی بنا پر ہے۔ اور جائزۃ مہربانی اور احسان کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح امام طحاوی ابن بطال اور ابن عبدالبر نے اس سے استدلال کیا ہے۔ لیث اور امام احمد نے کہا: ایک دن کی ضیافت واجب ہے کیونکہ یہ حدیث مرفوع میں ہے ليلة الضيف واجبة على كل مسلم (مہمان کی ایک رات ضیافت واجب ہے ہر مسلمان پر) اور جمہور نے اس حدیث کا اور اس جیسی (دیگر) حدیثوں کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ ابتداء اسلام میں تھا جبکہ مواساۃ ہمدردی کرنا واجب تھا، نیز یہ بھی جواب دیا کہ یہ مجبوروں کی ضیافت کرنے پر محمول ہے۔ (التعلیق الممجد)۔ 3 قوله يخرج الرجل مع ضيفه الى باب الدار (آدمی اپنے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک نکلے) واضح بات تو یہ ہے کہ یہ حکم مزید اکرام واحترام کے قبیل سے ہے۔ (مرقات)